صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ خَلْفَ الرَّجُلِ: باب: جانور پر عورت کا مرد کے پیچھے بیٹھنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ يَسِيرُ ، وَبَعْضُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَثَرَتِ النَّاقَةُ ، فَقُلْتُ : الْمَرْأَةَ ، فَنَزَلْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا أُمُّكُمْ ، فَشَدَدْتُ الرَّحْلَ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَنَا أَوْ رَأَى الْمَدِينَةَ قَالَ : آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .´ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن عباد نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی ، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپس آ رہے تھے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور چل رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں کہ اچانک اونٹنی نے ٹھوکر کھائی ، میں نے کہا عورت کی خبرگیری کرو پھر میں اتر پڑا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ماں ہیں پھر میں نے کجاوہ مضبوط باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے پھر جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) مدینہ منورہ دیکھا تو فرمایا ” ہم واپس ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں ، اسی کو پوجنے والے ہیں ، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے ہیں ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
غزوۂ خیبر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بطور خدمت گار شریک ہوئے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کریں گے۔
حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اونٹنی کے پھسل جانے کے بعد تمام خدمات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سر انجام دیں، حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ اس وقت ان کی عمر صرف دس برس تھی اور کم سن بچے تھے بلکہ یہ تمام خدمات ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر نامدار حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے انجام دی تھیں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 3086)
بولا۔
جس کو آپ نے ناپسند نہیں فرمایا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
مدینہ منورہ خیریت سے واپسی پر آپ نے آئبون تائبون الخ کے الفاظ استعمال فرمائے۔
اب بھی سفر سے وطن بخیریت واپسی پر ان الفاظ کا ورد کرنا مسنون ہے۔
خاص طور پر حاجی لوگ جب وطن پہنچیں تو یہ دعا پڑھتے ہوئے اپنے شہر یا بستی میں داخل ہوں۔
(1)
اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ’’اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے!‘‘ اگر ایسا کہنا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے منع فرما دیتے۔
ہمارے رجحان کے مطابق اگر کوئی اپنے سے بڑے صاحب علم و فضل کو عزت افزائی کے لیے کہے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثواب بھی دے گا کیونکہ یہ اس توقیر و احترام سے ہے جس کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ذکر کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا حال ہے؟ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابھی تک تم نے اپنی بدویت کو نہیں چھوڑا۔
‘‘ (شعب الإیمان للبیهقي: 459/6، رقم: 8892)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اور صحیح روایات کے مقابلے میں پیش نہیں کی جا سکتی۔
اگر صحیح بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو اس طرح کے کلمات نہیں کہنے چاہئیں بلکہ اس کے لیے انس و نرمی اور دعائے شفا کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 698/10)