صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ مَنْ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ: باب: جس گھر میں مورتیں ہوں وہاں نہ جانا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْباب فَلَمْ يَدْخُلْ ، فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، مَاذَا أَذْنَبْتُ ؟ قَالَ : " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ " فَقَالَتْ : اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " وَقَالَ : " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ " .´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے نافع نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں مورتیں تھیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے ۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں ، میں نے کیا غلطی کی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں مورت ہوتی ہے اس میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں داخل ہوتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بظاہر یہ اس حدیث کے خلاف ہے جس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے گھر میں ایک پردہ لٹکایا تھا اس میں مورتیں تھیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادھر نماز پڑھ رہے تھے اورتطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ شاید پردہ پر بے جان چیزوں کی مورتیں ہوں اور باب کی حدیث کا تعلق جاندار کی مورتوں سے ہے۔
(1)
تصاویر بنانا اور رکھنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں داخل نہیں ہوئے جس میں تصاویر تھیں۔
ہمیں اس واقعے سے سبق لینا چاہیے۔
زہد و تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ جس مجلس یا مقام میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مبنی سامان ہو وہاں نہیں جانا چاہیے۔
(2)
اس حدیث کی رو سے جس نکاح کی مجلس میں اختلاط مرد و زن ہو اور وہاں ویڈیو تیار کی جا رہی ہو اور زندگی کے حسین لمحات کو بطور یادگار محفوظ کیا جا رہا ہو، ایسی مجالس کا اہل علم کو بائیکاٹ کرنا چاہیے، اسی طرح جس گھر میں ٹیلی ویژن یا وی سی آر یا کیبل کے ذریعے سے فحش مناظر دکھائے جا رہے ہوں، ان کا بھی یہی حکم ہے۔
ایسی چیزوں کو ٹھنڈے پیٹ برداشت کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔
العیاذ باللہ
بعضوں نےکہا یہ بطور زجر کے ہے کیونکہ مسلمان ہمیشہ کے لیے عذاب میں نہیں رہ سکتا۔
مسلم کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پر آرام فرمایا کرتے تھے، باب کا مطلب اسی سے ظاہر ہے۔
حضرت علی بن عبداللہ مدینی حضرت امام بخاری کے استاد محترم حافظ حدیث ہیں۔
امام نسائی نے سچ کہا کہ ان کی پیدائش ہی خدمت حدیث کے لیے ہوئی تھی۔
ذی قعدہ سنہ232ھ میں بعمر سنہ 73 سال انتقال فرمایا۔
رحمه اللہ۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں والا پردہ دیکھ کر اسے ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کیا اور نہ کسی قسم کی نرمی ہی کا مظاہرہ کیا بلکہ غصے میں آئے، پردے کو پکڑا اور اسے پھاڑ کر رکھ دیا، پھر آپ نے اس پر وعید بھی سنائی کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو سخت عذاب دیا جائے گا جو اس طرح کی تصویریں بناتے ہیں۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح تصویر کشی حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اسی طرح اسے شوق سے گھر میں رکھنا اور دیواروں پر لٹکانا بھی سخت جرم ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ گھر میں ایسی چیزوں پر کڑی نظر رکھیں جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہیں۔
واللہ المستعان ww
سهوة: الماری، طاقچہ، کھڑکی، مچان، چھوٹا سا تہہ خانہ۔
فوائد ومسائل: بعض حضرات نے اس حدیث پر یہ اشکال پیش کیا ہے کہ نص قرآنی کی رو سے سخت ترین عذاب تو آل فرعون کو ہو گا اور اس حدیث میں سخت ترین عذاب مصور فوٹو گرافر کے لیے بیان کیا گیا ہے، علماء نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ آیت میں آل فرعون کے لیے سخت ترین عذاب ہونے کا معنی یہ نہیں ہے کہ بس ان کے لیے خاص ہے، اس سخت ترین عذاب میں اور لوگ بھی مبتلا ہوں گے، فوٹو گرافر بھی ان میں داخل ہیں، اس لیے بعض جگہ من أشد الناس کی تصریح موجود ہے اور یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختلف شاگردوں نے نقل کی ہے، اور ان سے آگے بہت سے راویوں نے نقل کی ہے اور ہر ایک نے اس کو اپنے اپنے الفاظ اور اپنے اپنے انداز میں بیان کی ہے اور کسی ایک نے بھی مکمل تفصیلات اور جزئیات بیان نہیں کیں، اس واقعہ کی تمام تفصیلات جمع کرنے سے اس کی صحیح صورت حال سمجھ آتی ہے، الگ الگ دیکھنے سے یہ مختلف واقعات نظر آتے ہیں، حالانکہ یہ ایک ہی واقعہ ہے اور آپ نے پردہ کے چاک کرنے کی مختلف وجوہ اور اسباب بیان فرمائے، کسی نے کوئی وجہ نقل کر دی، کسی نے کوئی دوسری وجہ بیان کر دی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بلاشبہ یہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن عذاب پائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا۔" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5364]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے بنایا ہے، ان میں جان ڈالو " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2151]
فوائد ومسائل: (1)
جاندار چیزوں کی تصویر بنانا حرام ہے، خواہ تصویر کاغذ، دیوار یا کپڑے وغیرہ پر بنائی جائے، یا مجسم شکل میں مٹی، پتھ، چینی یا پلاسٹک وغیرہ سے بنائی جائے۔
(2)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ تصویر کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی پوجا کی جاتی تھی۔
یہ درست نہیں کیونکہ پوجا تو درختوں، ستاروں، سورج، چاند اور آگ کی بھی کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ان چیزوں کا استعمال اور ان سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں۔
(3)
یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ سابقہ شریعتوں میں تصویر سازی اور مجسمہ سازی کی اجازت تھی، اگر یہ دعویٰ درست بھی ہو تو بھی کسی چیز کے سابقہ شریعت میں جائز ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ہمارے لیے بھی جائز ہے جب تک ہمارے پاس یہ واضح دلیل موجود نہ ہو کہ وہ ہماری شریعت میں بھی جائز ہے۔
(4)
موجودہ دور میں تصویر کے بعض فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔
مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے دوسرے جائز متبادل ذرائع تلاش کریں، خاص طور پر جب کہ تصویروں (فلم، ٹی وی، وی سی آر وغیرہ)
کی وجہ سے معاشرے میں فحاشی، کافرانہ تہذیب کے فروغ اور کثرت جرائم کے جو خوفناک اور گھناؤنے نتائج سامنے آرہے ہیں، ان کے مقابل ان فوائد کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(5)
تصویر بنانے والوں کو جان ڈالنے کا حکم انہیں شرمندہ کرنے اور ان کے جرم کی شناعت واضح کرنے کے لیے دیا جائے گا، اس طرح یہ حکم بھی اصل میں ایک عذاب ہی ہوگا۔
(6)
منع کے اس حکم میں ہاتھ سے بنی ہوئی، کیمرے سے بنی ہوئی یا پریس میں چھپی ہوئی سب تصویرں شامل ہیں۔