صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ الْمَوْصُولَةِ: باب: جس عورت کے بالوں میں دوسرے کے بال جوڑے جائیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ ، مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ " .´مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، انہیں منصور نے ، انہیں ابراہیم نخعی نے ، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں ، لعنت بھیجی ہے پھر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کی طرف اشارہ ہے۔
کی طرف اشارہ ہے کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو حکم فرمائیں اسے بجا لاؤ اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ اس کے تحت اجمالی طور پر سارے اوامر اور نواہی داخل ہیں آج کا فیشن جو مردوں اور عورتوں نے اپنایا ہے جو عریانیت کا مرقع ہے وہ سب اس لعنت کے تحت داخل ہے۔
سند میں مذکور علقمہ بن وقاص لیثی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں پیدا ہوئے اورغزوئہ خندق میں شریک ہوئے، عبدالملک بن مروان کے عہد میں وفات پائے رحمہ اللہ تعالیٰ۔
کتاب اللہ میں مذکور ہونے سے وہ آیت مراد ہے جس میں ہے وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت تم کو دیں اسے قبول کر لو اور جن کاموں سے آپ منع فرمائیں ان سے رک جاؤ۔
اس میں جملہ اوامر اور نواہی داخل ہیں حدیث میں مذکورہ نواہی بھی اسی آیت کے ذیل میں ہیں۔
(1)
سوئی یا کسی نوک دار چیز سے جسم کے کسی حصے کو چھید کر کوئی نام یا کسی کی تصویر بنا کر وہاں سرمہ یا نیل وغیرہ چھڑکا جاتا ہے، پھر زخم مندمل ہونے کے بعد وہ نام یا تصویر مستقل طور پر باقی رہتی ہے۔
عربی زبان میں اس عمل کو وشم کہا جاتا ہے۔
یہ عمل کرنا اور کرانا شرعاً حرام ہے۔
(2)
اگر وشم کے بغیر کسی مرض کا علاج ممکن نہ ہو تو اس عمل کے جائز ہونے کی گنجائش ہے۔
یاد رہے کہ اس عمل کی اجرت حرام ہے کیونکہ جو کام حرام ہو اس کی اجرت بھی حرام ہوتی ہے۔
اگر کسی زندہ یا مرنے والے شخص کے جسم پر اس طرح کا نشان ہو تو اس کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
اگر کسی نقصان کا خطرہ ہو تو اسے باقی رہنے دیا جائے، البتہ دونوں صورتوں میں توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔
واللہ أعلم
میں داخل ہیں۔
حدیث شریف قرآن مجید سے جدا نہیں ہے قرآن شریف میں خود حدیث شریف کی پیروی کا حکم ہے اس لئے حدیث کے منکر خود قرآن کے بھی انکاری ہیں۔
(1)
امام ابوداود رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نامصہ وہ عورت ہے جو ابروؤں کے بال نوچتی ہے تاکہ وہ باریک ہو جائیں اور مُتنمصه وہ عورت ہے جو یہ کام کروائے۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4170) (2)
ایک روایت میں ہے کہ جس عورت نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا وہ قبیلۂ بنو اسد سے تعلق رکھتی تھی اور اسے قرآنی معلومات کافی حد تک تھیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب آیت کریمہ پڑھی تو وہ مطمئن ہو گئی لیکن اس نے کہا کہ میں ان ممنوعہ چیزوں میں سے کئی چیزیں تمہاری بیوی پر بھی دیکھتی ہوں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اندر جاؤ اور دیکھ لو، چنانچہ وہ گئی اور پھر باہر آ گئی۔
انہوں نے پوچھا: کیا دیکھا ہے؟ عورت نے کہا: میں نے کچھ نہیں دیکھا۔
تو انہوں نے فرمایا: اگر ایسا ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ نہ ہوتی۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4169) (3)
بہرحال دعوت دین کا کام کرنے والوں کو لوگ انتہائی باریک نظر سے دیکھتے ہیں اور چاہتے کہ وہ اپنی گفتار کے مطابق کردار کو ڈھالیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس معیار پر پورے اترتے تھے اور انہوں نے اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان کی بیوی خلاف شریعت کاموں کی مرتکب ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہ سکتی۔
(1)
نامصات: بال اکھیڑنے والی جو چہرے کے بال اکھیڑتی ہےاور متنمصات، جو دوسری عورت سے بال اکھڑواتی ہے، عام طور پر عورتیں یہ کام حسن وزیبائش کے لیے پلکوں اور چہرے کے اطراف میں کرتی ہیں، احناف کے نزدیک عورت کے لیے داڑھی، مونچھیں اور بچہ کے بال زائل کرنا درست ہے اور شوافع کا بھی یہی موقف ہے، لیکن امام طبری، نے اس کو بھی ناجائز قرار دیا ہے، جبکہ امام نووی اس ازالہ کو مستحب قرار دیتے ہیں۔
(2)
متفلجات: رباعی اور ثنایا دانتوں کوریتی کے ذریعہ باریک کرنا تاکہ درمیان میں کشادگی پیدا ہو اور عورت کم عمر نظر آئے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اپنے بدن اور جسم میں حسن و جمال کی خاطر کمی و بیشی کر کے، ایسا رد و بدل کرنا جو دائمی اور مسلسل ہو اور تخلیق و بناوٹ محسوس ہو تو یہ دھوکہ دہی اور بعض بناوٹ میں تبدیلی ہے جو ناجائز ہے، لیکن عارضی رنگ و روغن یا سرخی، پوڈر، محض خاوند کی خاطر استعمال کرنا جائز ہے، لیکن بازاری عورتوں کی طرح ہار سنگھار کر کے اور مجسم دعوت نظارہ بن کر، دوسروں کے سامنے اپنے حسن و جمال کا مظاہرہ کرنا تاکہ لوگ دیدے پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھیں اور اس کے حسن و جمال کا شہرہ ہو اور وہ شمع محفل بن جائے، اس کے فوٹو اتریں تو یہ انتہائی شدید جرم اور کبیرہ گناہ ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، انسان دوسروں کے سامنے جو کچھ بیان کرتا ہے، لوگ فورا اس کے گھر پر نظر ڈالتے ہیں کہ ان باتوں پر اس کے گھر کہاں تک عمل ہو رہا ہے اور انسان کو اپنے گھر کی صفائی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بدقسمتی ہے کہ یہ چیز آج مفقود ہے، ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے، جو ہماری تباہی اور بربادی کا باعث ہے اور اس بیماری میں عام و خاص، عالم و جاہل تمام طبقات مبتلا ہیں، لیکن علماء کی ذمہ داری بہرحال دوسروں سے زائد ہے، اس لیے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر میری بیوی ان میں سے کسی کا ارتکاب کرتی تو میں اس کو اپنے ساتھ نہ رکھتا، بلکہ طلاق دے کر جدا کر دیتا، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امر و نہی کتاب اللہ کے امر اور نہی کے حکم میں ہے، اس سے راہ فرار اختیار کرنا مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کے دونوں گواہوں اور اس کے لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1206]
وضاحت:
1؎:
اس سے سود کی حرمت سے شدّت ظاہرہوتی ہے کہ سود لینے اور دینے والوں کے علاوہ گواہوں اور معاہدہ لکھنے والوں پر بھی لعنت بھیجی گئی ہے، حالانکہ مؤخرالذکردونوں حضرات کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، لیکن صرف یک گونہ تعاون کی وجہ سے ہی ان کوبھی ملعون قراردے دیا گیا، گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اورغضب الٰہی کا باعث ہے کیونکہ سود کی بنیاد خود غرضی، دوسروں کے استحصال اورظلم پرقائم ہوتی ہے اوراسلام ایسا معاشرہ تعمیرکرنا چاہتا ہے جس کی بنیاد بھائی چارہ، اخوت ہمدردی، ایثار اور قربانی پرہو۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب (لکھنے والے) پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3333]
سود لینا دینا اور باطل کا کسی طرح سے تعاون کرنا حرام ہے۔
بالخصوص سودی معاملہ لعنت کا کام ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے بال اکھاڑنے والی، گودوانے والی اور دانتوں میں کشادگی کرانے والی عورتوں پر، جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5112]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو (بڑا کرنے کے لیے) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3445]
(2) ”رنگ بھرنے والی“ جسم کو پہلے سوئی کے ساتھ چھیدا جاتا ہے‘ پھر ان سوراخوں میں سرمہ یا نیل ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ رنگ بعد میں سبز یا نیلگیوں نظر آتا ہے۔ اس کا میں غیر ضرورتی تکلف ہے۔ صرف حصول حسن کے لیے اپنے آپ کو چھیدنا فطرت کے خلاف ہے۔ حسن اصل نہیں‘ انسان اصل ہے۔
(3) ”بال ملانے والی“ اصل بالوں کے ساتھ زائد جعلی بال ملانا دھوکا دہی اور جعل سازی ہے جو انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ سود دینے والا چونکہ اس نظام فاسد کو قائم رکھنے میں ممد ہے‘ اس لیے اسے بھی سود کے حکم میں شریک کردیا گیا۔
(4) ”سود لینے دینے والا“ سود کی بنیاد کنجوسی اور خود غرضی ہے جو انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ سود دینے والا چونکہ اس نظام فاسد کو قائم رکھنے میں ممد ہے،اس لیے اسے بھی سود کے حکم میں شریک کر دیا گیا۔
(5) ”حلالہ کرنے والا“ یعنی مطلقہ عورت سے اس نیت سے نکاح کرنے والا کہ ایک دو دن جماع کے بعد چھوڑ دوں گا‘ یہ انسانی فطرت کے بجائے حیوانی فطرت ہے۔ انسانی فطرت تو مستقل نکاح کا تقاضا کرتی ہے جو انتہائی پاکیزہ عمل ہے جب کہ ”حلالہ“ تو سانڈ کی فطرت ہے اور انسانی فطرت کو مسخ کرنے والی چیزہے‘ لہٰذا یہ ملعون فعل ہے اور ایسا فعل نکاح کی بجائے زنا ہے۔ اس سے حلت جیسا پاکیزہ نتیجہ حاصل نہیں ہوسکے گا۔ بعض حلیہ ساز لوگوں نے اسے مشروع بنا دیا ہے۔ افسوس! ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے؟
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جسم پر) گودنا گودنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5255]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی، گودوانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5102]
(2) حسن کی خاطر اس قسم کا بناؤ سنگھار حرام ہے، ہاں اگر یہ کام بغرض علاج یا کسی نقص وعیب کے ازالے کی خاطر کیے جائیں تو پھر کوئی حرج نہیں، مثلاً: اگر عورت کے چہرے پر ڈاڑھی اگ آئے تویہ اس کے لیے عیب ہے، اس لیے اس کاازالہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ واللہ أعلم مزید تفصیل کےلیے دیکھئے: (شرح صحیح مسلم للنووی:14؍150۔152)
(3) ”بال اکھیڑنا“ اس کی وضاحت حدیث نمبر:5094 میں گزر چکی ہے۔ یادرہے کہ جن بالوں کو شریعت نے ختم کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، مثلاً: بغلوں کے بال، نیز جس طرح عورتوں کے لیے مذکورہ بالوں کے علاوہ بال اکھیڑنے منع ہیں، اسی طرح حسن کی خاطر مرد بھی بال نہیں اکھیڑسکتے، مثلاً: ڈاڑھی یا ابرو کے بال اکھیڑنا مردوں کے لیے بھی ممنوع ہیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں، بال اکھیڑنے والیوں، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں، اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے، قبیلہ بنو اسد کی ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ حدیث پہنچی تو وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے، اور یہ بات تو اللہ تعا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1989]
فوائد و مسائل:
(1)
بال نوچنے سے مراد چہرے وغیرہ کے بال ہیں جو عورتوں کے جسم پر اچھے نہیں لگتے انہیں اکھاڑنا اور تھریڈنگ وغیرہ شرعاً منع ہے۔
ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کا رنگ اس طرح کا کر لیا جائے کہ نمایاں محسوس نہ ہوں-
(2)
بعض افراد کے ابر و درمیان سے ملے ہوئے ہو تے ہیں وہ انہیں درمیان سے مونڈ کر فاصلہ پیدا کرلیتے ہیں، یا عورتیں ابر و باریک کرنے کے لیے انہیں (اوپر یا نیچے سے)
مونڈ دیتی ہیں۔
یہ سب منع ہے، اور اسی ممنوع کام میں شامل ہے-
(3)
عربوں میں یہ بات بھی حسن شمار ہوتی تھی کہ سامنے کے دانت، باہم ملے ہو ئے نہ ہوں۔
اس مقصد کے لیے عورتیں دانتوں کو درمیان سے رگڑ کرفاصلہ پیدا کر لیتی تھیں، یہ عمل جائز نہیں۔
(4)
مردوں کا ڈاڑھی کا خط بنوانا یعنی رخساروں پر سے مونڈ دینا بھی اس قسم کا عمل ہے کیونکہ پوری ڈاڑہی رکھنا شرعا مطلوب ہے اور رخساروں کے بالوں کو ڈاڑھی سے خارج کرنے کی کوئی قابل اعتماد دلیل موجود نہیں-
(5)
عالم آدمی کو اپنے گھر والوں کے اعمال کا خاص طور پر خیا ل رکھنا چاہیے کیوکہ اس کی غلطی دوسروں کےلیے جواز بن جاتى ہے-
(6)
حدیث کے مسائل قرآن مجید کے برابر اہمیت رکھتے ہیں جو حدیث محدثین کے اصول کےمطابق صحیح ہو، اس پر عمل کرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح قرآ ن کےعمل ضروری نہیں ہے۔
(7)
اگر عالم کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا ہو جائے تو اسے چاہیے فوراً اس کا ازالہ کرے-
(8)
صحابہ کرام کی نظر میں احکام شریعت کی اس قدر اہمیت تھی کہ ان کی خلاف درزی پر وہ بیوی کو طلاق بھی دے سکتے تھے۔
(9)
جو عورت نیکی کی راہ میں رکاوٹ بنے اور سمجھانے پر بھی باز نہ آئے، اس کی بات ماننے کی بجائے اس سے الگ ہو جانا بہتر ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کی گواہی دینے والے پر، اور اس کا حساب لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2277]
فوائد و مسائل:
(1)
سود کی تمام صورتیں حرام اور اللہ کی لعنت کا باعث ہیں۔
(2)
جس طرح سود لینا کبیرہ گناہ ہے اسی طرح سود دینا بھی کبیرہ گناہ ہے، لہٰذا سود کی بنیاد پر قرض لینا بھی حرام ہے، خواہ یہ سود بنکوں سے لیا جائے یا کاروباری افراد سے۔
(3)
حرام کام میں کسی بھی انداز سے تعاون کرنا حرام ہے۔
اور تعاون کرنے والا برابر کا گناہ گار ہے۔
اس حدیث میں اہم امور درج ذیل ہیں: پہلے دور کی عورتیں قرآن کریم پر مکمل عبور رکھتی تھیں۔ اگر کسی مسئلے پر بحث کرنا ہوتی تھی تو وہ ہچکچاتی نہیں تھیں۔ کاش! آج کی مسلمان عورت بھی قرآن کریم کے ترجمہ تفسیر پر عبور حاصل کر لے تاکہ خواتین میں فتنے وفساد کم ہوں اور وہ جہنم سے بچ کر جنت کی راہ پر گامزن ہوں۔ سوال کرنے والی عورت کا نام”ام یعقوب“ تھا۔ (صحیح مسلم: 2125، سنن ابن ماجه: 1989)
غیر محرم عورت کی آواز پردہ نہیں ہے، وہ غیر محرم مرد سے دینی مسائل پر گفتگو کر سکتی ہے۔ الواشمہ سے مراد” کھال کو سوئی سے گود کر نیل چھٹرکناہے“۔ اکـمـال المعلم (329/6) میں ہے کہ خواہ یہ ہاتھ میں ہو یا جسم کے کسی بھی حصے میں ہو۔ مسند حمیدی میں یہ حدیث مختصر ہے اور سنن ابن ماجہ (1989) میں مفصل ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گود نے والیوں پر، گدوانے والیوں پر، بال نوچنے والیوں پر، حسن کے لیے دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔ “ یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم دین کو خود اور اپنے اہل وعیال کے اعمال کا خاص خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ اس کی غلطی دوسروں کے لیے سند جواز گمان کر لی جاتی ہے، حالانکہ یہ بات غلط ہے، کیونکہ عالم دین نبی نہیں ہوتا بلکہ عام انسان ہوتا ہے۔ گناہ کا سرزد ہو جانا اس سے ممکن ہے اور اسے اس کے اہل وعیال کے عمل کی وجہ سے ڈانٹنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس کی ذمہ داری انھیں تبلیغ کرنا ہے، اگر کوئی اہل وعیال میں سے نہیں مانتا تو اس کی سزا اس پر ہے نہ کہ عالم دین پر۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن وحدیث حجیت کے اعتبار سے برابر ہیں۔ اگر کسی بھی انسان کے متعلق غلط فہمی پیدا ہو جائے تو اسے جلد از جلد دور کرنا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خود بھی دین پر کار بند تھے اور ان کے اہل وعیال بھی پابند تھے۔ وہ دین پر عمل کرنے میں سستی سے کام نہیں لیتے تھے، جس طرح کہ ہمارے دور میں ہے۔ اے اللہ! ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو دین اسلام پر چلا اور دینی احکام و مسائل کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرما، آمین۔ بیوی کو نیکی کے کاموں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، ورنہ ایسی بیوی سے جدائی بہتر ہے۔