صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ الْوَصْلِ فِي الشَّعَرِ: باب: بالوں میں الگ سے بناوٹی چٹیا لگانا اور دوسرے بال جوڑنا۔
حدیث نمبر: 5938
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا فَخَطَبَنَا ، فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ قَالَ : " مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ " ، يَعْنِي الْوَاصِلَةَ فِي الشَّعَرِ .مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` معاویہ رضی اللہ عنہ آخری مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا ۔ آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکال کے کہا کہ یہ یہودیوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «زور.» یعنی فریبی فرمایا یعنی جو بالوں میں جوڑ لگائے تو ایسا آدمی مرد ہو یا عورت وہ مکار ہے جو اپنے مکر و فریب پر اس طور پر پردہ ڈالتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5938. حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ جب آخری مرتبہ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انہوں نے ہمیں خطاب کیا۔ دوران خطاب میں انہوں نے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور فرمایا: میں نے یہودیوں کے سوا کسی کو یہ کام کرتے نہیں دیکھا یقیناً نبی ﷺ نے اس کو یعنی بالوں میں پیوند کاری کرنے والی (کے عمل) کو باطل قرار دیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5938]
حدیث حاشیہ:
زُور کے معنی کذب، باطل اور تہمت کے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کو اس لیے "زُور" قرار دیا کہ ایسا کرنا فریب دہی اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا ہے۔
ان تمام روایات سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس روایت کی تردید ہوتی ہے جس میں گنجی عورت کے لیے مصنوعی بالوں کے استعمال کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
اس روایت کے مطابق یہ ممانعت ان عورتوں کے متعلق تھی جو جسم فروشی کا دھندا کرتی تھیں اور اپنے گاہکوں کو پھانسنے کے لیے اپنے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگا کر انہیں لمبا کرتی تھیں۔
بہرحال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے۔
(فتح الباري: 462/10)
واللہ أعلم
زُور کے معنی کذب، باطل اور تہمت کے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کو اس لیے "زُور" قرار دیا کہ ایسا کرنا فریب دہی اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا ہے۔
ان تمام روایات سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس روایت کی تردید ہوتی ہے جس میں گنجی عورت کے لیے مصنوعی بالوں کے استعمال کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
اس روایت کے مطابق یہ ممانعت ان عورتوں کے متعلق تھی جو جسم فروشی کا دھندا کرتی تھیں اور اپنے گاہکوں کو پھانسنے کے لیے اپنے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگا کر انہیں لمبا کرتی تھیں۔
بہرحال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے۔
(فتح الباري: 462/10)
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5938 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5248 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بالوں میں جوڑ لگانے کا بیان۔`
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور ہمیں خطاب کیا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہا: میں نے سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ۱؎، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جب یہ چیز پہنچی تو آپ نے اس کا نام دھوکا رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5248]
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور ہمیں خطاب کیا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہا: میں نے سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ۱؎، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جب یہ چیز پہنچی تو آپ نے اس کا نام دھوکا رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5248]
اردو حاشہ: الزور کے معنی ہیں:’’باطل، جھوٹ،جعل سازی ‘‘ وغیرہ۔ مذکورہ فعل کوزور کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ ایک فریب ہے کہ کسی دوسرے کے بال کوئی اپنےسر میں لگالے اور لوگوں کودکھائے کہ یہ میرے سر کے بال ہیں۔ یہ ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5248 سے ماخوذ ہے۔