حدیث نمبر: 5934
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ ، وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا ، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهَا ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " ، تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ .
مولانا داود راز

´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے حسن بن مسلم بن نیاق سے سنا ، وہ صفیہ بنت شیبہ سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی ۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے ، اس کے گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں مصنوعی بال لگا دیں ۔ اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی دونوں پر لعنت بھیجی ہے ۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی ابان بن صالح سے ، انہوں نے حسن بن مسلم سے ، انہوں نے صفیہ سے ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5934
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5205 | صحيح مسلم: 2123

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5205 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5205. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اس (بےچاری) کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے گر گئے۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے مجھے اس کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت مرو کیونکہ اس طرح بال ملانے والی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5205]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے حکم کے خلاف کوئی بات کہے تو عورت اگر اس کو بجا نہ لائے تو اس پر گناہ نہ ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5205 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5205 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5205. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اس (بےچاری) کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے گر گئے۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے مجھے اس کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت مرو کیونکہ اس طرح بال ملانے والی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5205]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کو خوش رکھنے کے لیے غیر شرعی خوبصورتی کرنا جائز نہیں۔
آج کل کی روشن خیال خواتین مصنوعی خوبصورتی کے لیے بہت سے غیر شرعی کام کرتی ہیں جو مردوں کے لیے باعث کشش ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک مصنوعی بالوں کی وگ استعمال کرنا ہے۔
یہ اس لیے ممنوع ہے کہ ایسا کام فاجر اور بے حیا عورتیں کرتی ہیں، نیز یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے خلاف حکم دے تو عورت کو چاہیے کہ وہ نہ مانے، ایسے حالات میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ یہ فعل خاوند کی نافرمانی ہی کے زمرے میں آئے گا۔
والله المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5205 سے ماخوذ ہے۔