حدیث نمبر: 5933
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ " .
مولانا داود راز

´اور ابن ابی شیبہ نے بیان کیا ، ان سے یونس بن محمد نے بیان کیا ، ان سے فلیح نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5933
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5933. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالٰی نے بالوں کے ساتھ بال پیوند کرنے والی اور کروانے والی، نیز سرمہ بھرنے والی اور بھروانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5933]
حدیث حاشیہ:
(1)
جن گناہوں کے ارتکاب پر لعنت کی وعید سنائی گئی ہو وہ کبیرہ گناہ کہلاتے ہیں، ایسے گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے اور توبہ بھی اس شرط کے ساتھ کی جائے کہ انسان ان سے باز رہنے کا عزم بالجزم کرے۔
(2)
بہرحال جس طرح اپنے بالوں کے ساتھ مصنوعی بالوں کی پیوندکاری حرام ہے، اسی طرح عورت کے لیے اپنے سر کے بالوں کو منڈوانا بھی حرام ہے ہاں اگر ضرورت ہو، مثلاً: پھوڑے وغیرہ نکل آئیں تو منڈوانے میں چنداں حرج نہیں ہے۔
(فتح الباري: 460/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5933 سے ماخوذ ہے۔