صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ الْقَزَعِ: باب: قزع یعنی کچھ سر منڈانا کچھ بال رکھنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ " قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : قُلْتُ : وَمَا الْقَزَعُ ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ : " إِذَا حَلَقَ الصَّبِيَّ وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعَرَةً وَهَهُنَا وَهَهُنَا ، فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ " قِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ : فَالْجَارِيَةُ وَالْغُلَامُ ، قَالَ : لَا أَدْرِي ، هَكَذَا قَالَ : الصَّبِيُّ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَعَاوَدْتُهُ ، فَقَالَ : " أَمَّا الْقُصَّةُ وَالْقَفَا لِلْغُلَامِ فَلَا بَأْسَ بِهِمَا ، وَلَكِنَّ الْقَزَعَ أَنْ يُتْرَكَ بِنَاصِيَتِهِ شَعَرٌ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ غَيْرُهُ ، وَكَذَلِكَ شَقُّ رَأْسِهِ هَذَا وَهَذَا " .´مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے مخلد بن یزید نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن حفص نے خبر دی ، انہیں عمرو بن نافع نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے «قزع.» سے منع فرمایا ، عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ «قزع.» کیا ہے ؟ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑ دے اور کچھ بال وہاں چھوڑ دے ۔ ( تو اسے «قزع.» کہتے ہیں ) اسے عبیداللہ نے پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں اس کی صورت بتائی ۔ عبیداللہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی یعنی پیشانی پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں اور سر کے دونوں کونوں پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں ۔ پھر عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے ؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ نافع نے صرف لڑکے کا لفظ کہا تھا ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمرو بن نافع سے دوبارہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی کنپٹی یا گدی پر چوٹی کے بال اگر چھوڑ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن «قزع.» یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دیئے جائیں اور باقی سب منڈوائے جائیں اسی طرح سر کے اس جانب میں اور اس جانب میں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا اس کے کچھ بال مونڈ دیے گئے تھے اور کچھ چھوڑے ہوئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا اور کہا: اس کے سارے بال مونڈ دو یا سارے بال رکھو۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4195)
اس کی ممانعت اس لیے ہے کہ اہل کتاب کے احبار و رہبان اس طرح کرتے تھے اور یہ فاسق لوگوں کا طریقہ تھا، نیز اس انداز سے خلقت میں قباحت معلوم ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 448/10) (2)
دور حاضر میں سر پر بال رکھ کر گردن سے صاف کر دیے جاتے ہیں پھر گردن کے اوپر سے بتدریج بڑے ہوتے جاتے ہیں، خاص طور پر فوجیوں اور پولیس والوں کے بال اس طرح کاٹے جاتے ہیں جسے فوجی کٹ کہا جاتا ہے۔
یہ طریقہ بھی قزع سے ملتا جلتا ہے، اس لیے اس انداز سے بھی بچنا چاہیے۔
آج کل "برگر کٹ" کے نام سے جو آدھا سر یا اس سے کم حصہ مونڈ دیا جاتا ہے وہ اس قزع کی زد میں آتا ہے۔
(3)
بہرحال مسلمانوں کو مشرکین اور کفار کی نقالی سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔
ہمیں چاہیے کہ لباس اور حجامت میں اسلامی ثقافت کو رواج دیں اور اسے اختیار کریں۔
نوجوانانِ اسلام کو ایسی غلط روایات کے خلاف جہاد کرنا چاہیے، خاص طور پر ہپی ازم بال رکھنے کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4194]
اہلِ بدعت میں یہ مروج ہے کہ وہ اپنے بعض پیروں اور بزرگوں کے نام سے کچھ بال نہیں کاٹتےایک لٹ باقی رکھتے ہیں تو ان کا یہ عمل حرام ہے، کیونکہ یہ نظر غیراللہ ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4193]
ہمارے ہاں آج کل برگر کٹ کے نام سے جو آدھا سر مونڈ دیا جا تا ہے، اس حدیث کی روشنی میں جائز نہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5054]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے اللہ تعالیٰ نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5053]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3638]
فوائد و مسائل: (1) (قزع)
کے لغوی معنی ہیں: بادل کے متفرق ٹکڑے۔
حدیث میں اس کا مطلب وہى جو حضرت ابن عمر ؓ نے بیان فرمایا۔
(2)
اس سےممانعت کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اہل کتاب کے احبار و رہبان اس طرح کرتے تھے۔
اور یہ وجہ بھی کہ یہ فاسق لوگوں کا طریقہ تھا۔
(3)
آج کل سر پر لمبے بال رکھ کر گردن سے صاف کر دئے جاتے ہیں۔
اور گردن سے بتدریج بڑے ہوتے جاتے ہیں۔
خاص طور پر فوجیوں اور پولیس والوں کے بال کاٹنے کا خاص انداز بھی اس سے ملتا جلتا ہے اس میں زیادہ حصے کے بال کاٹے جاتے ہیں۔
یہ طریقہ بھی قزع سے ایک لحاظ سے مشابہہ اور خلاف شریعت ہے اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(4)
کسی بیماری یا دوسرے عذر کی وجہ سے اگر سر کے ایک حصے کے بال اتارنے پڑیں تو جائز ہے۔