صحيح البخاري
كتاب مواقيت الصلاة— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ مَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ مِنَ الْفَوَائِتِ وَنَحْوِهَا: باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ ، وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا ، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ " .´ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ` اللہ کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ " . . . .»
”. . . انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ پاک سے جا ملے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں (صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح) امت کو گراں باری ہو، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ مَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ مِنَ الْفَوَائِتِ وَنَحْوِهَا:: 590]
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں داخل تھی۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد دورکعات ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
جبکہ متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ انھیں ادا کیا تھا لیکن ایک مرتبہ پڑھنے والی روایات ضعیف ہیں اور ہمیشہ پڑھنے والی روایات قوی ہیں، اس لیے ان کو ترجیح ہوگی۔
آپ کے اس عمل کے بارے میں متعدد توجیہات کی گئی ہیں، مثلاً: یہ آپ کاخاصہ تھا، بیان جواز کے لیے تھا، آپ ایک مرتبہ جو عمل کرلیتے، اس پر دوام فرماتے تھے، وغیرہ وغیرہ، نیز ہمیشہ پڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ جب سے نماز فرض ہوئی تھی آپ ان رکعات کی ادائیگی کا اہتمام کرتے تھے، بلکہ واقعۂ وفد عبدالقیس کے بعد ان کے ادا کرنے پر دوام فرمایا۔
والله أعلم. (2)
رسول اللہ ﷺ کے افعال کی دو اقسام ہیں: ایک وہ ہیں جنھیں آپ نے بطور اسوہ اور نمونہ ادا فرمایا ہے، وہ شریعت کا حصہ ہیں اور امت کےلیے ایسے افعال کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
دوسری قسم ان افعال کی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت پر محمول ہیں، وہ امت کےلیے نمونہ یا اسوہ نہیں۔
عصر کے بعد دورکعت پڑھنا اور پھر اس پردوام بھی خصوصیت کی قبیل سےہے، جیسا کہ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ انھیں عصر سے پہلے (ظہرکے بعد)
پڑھا کرتے تھے، پھر کسی مصروفیت یا بھولنے کی وجہ سے انھیں نہ پڑھ سکے تو عصر کے بعد ادا فرمایا، پھر اس کو برقرار رکھا۔
اور آپ جب کسی نماز کو شروع کرلیتے تو اس پر دوام فرماتے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1934(835)
حضرت عائشہ ؓ ہی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ انھیں عصر کے بعد خود ادا فرماتے لیکن آپ دوسروں کو منع فرماتے تھے۔
(سنن أبي داود، التطوع، حدیث: 1280)
حضرت ام سلمہ ؒ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر عصر کے بعد دو رکعت ادا کیں تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!آپ نے پہلے تو کبھی انھیں ادا کرنے کا اہتمام نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس کچھ مال آگیا تھا، میں اس کی تقسیم میں ایسا مصروف ہوا کہ ظہر کے بعد دو رکعت نہ پڑھ سکا، وہ میں نے اب پڑھی ہیں۔
‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول!اگر ہم کسی وجہ سے ان دو رکعات کو نہ پڑھ سکیں تو بعد میں پڑھ سکتے ہیں؟آپ نے فرمایا: ’’ نہیں۔
‘‘ (مسند أحمد: 315/6)
ان روایات کا مدعا یہ ہے کہ ظہر کی دو سنت عصر کے بعد ادا کرنا، پھر اس پر مداومت فرمانا رسول اللہ ﷺ کا خاصہ ہے اور یہ امت کے لیے اسوہ یا نمونہ نہیں۔
(1)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد ان دورکعات کو صرف ایک مرتبہ ان کے گھر ادا کیا جبکہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے پتا چلتا ہے کہ آپ انھیں ہمیشہ پڑھتے رہے۔
ان میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ آپ نے ان دو رکعات کو بطور قضا پڑھا جیسا کہ حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنہا میں وضاحت ہےکہ یہ دورکعات نماز ظہر کے بعد والی ہیں جنھیں مصروفیت کی وجہ سے نہیں پڑھا جاسکا تھا۔
(سنن النسائي، المواقیت، حدیث: 580)
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بطور خصوصیت ہمیشہ پڑھتے رہے جیسا کہ حدیث بالا میں وضاحت ہے۔
(2)
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عصر کے بعد دورکعات کو سنت سمجھ کر ادا کرتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ انھیں منع کرتے اور ان پر سختی بھی فرماتے تھے۔
مبادا دوسرے لوگ گروب آفتاب تک نماز کے جواز کا حیلہ بنا لیں۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے امام ابن حزم رحمہ اللہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان اوقات میں ممانعت کی احادیث منسوخ ہیں لیکن ہمارے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ ممانعت کی احادیث محکم ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعت اس لیے ادا کی تھیں کہ وفد عبدالقیس کی آمد کی وجہ سے آپ ظہر کی دو سنت نہیں پڑھ سکے تھے، لہٰذا آپ نے وہ دوسنت عصر کے بعد ادا کرلیں اور آپ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی عمل شروع کرتے تو بعد میں اس پر مداومت فرماتے، اس بنا پر عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کا آپ نے معمول بنا لیا اور یہ عمل صرف آپ کے ساتھ ہی خاص تھا۔
عصر کے بعد دو رکعت ادا کرنا امت کے لیے کوئی مسنون عمل نہیں جیسا کہ بعض اہل علم کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے۔
والله اعلم۔
ان احادیث کی تطبیق سنن ابی داؤد کی صحیح حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا مگر اس حال میں کہ سورج بلند ہو اس سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد جب تک سورج بلند رہے نوافل خصوصاً دو رکعتیں پڑھ سکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادا کیا کرتے تھے ہاں جب سورج بلند نہ رہے تو پھر نماز پڑھنا منع ہے صرف وہ نمازیں پڑھ سکتا ہے جن کا کوئی سبب ہو مثلاً قضاء، تحیۃ الوضوء، تحیۃ المسجد، صلوۃ الکسوف، صلوٰہ طواف وغیرہ بلا سبب نوافل جائز نہیں عصر کے بعد مطلقاً نماز سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ناواقف لوگ سورج کے نیچے چلے جانے کے بعد بھی نفلی نماز نہ پڑھتے رہیں۔
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1279]
یہ ہمیشگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی اور ان رکعتوں کی اصل ابتداء ظہر کی سنتیں قضا پڑھنے سے ہوئی تھی۔ دیکھیے حدیث سنن ابي داود: [1273]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعت کبھی بھی نہیں چھوڑیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 575]
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دونوں رکعتوں کے متعلق سوال کیا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ کسی کام میں مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو انہیں عصر کے بعد ادا کیا، اور آپ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 579]
لہٰذا رہ جانے والی نماز، عصر کے بعد ادا کی جا سکتی ہے۔ یہ صرف آپ ہی کی خصوصیت نہیں ہے کیونکہ مذکورہ الفاظ ضعیف ہیں، مزید برآں یہ کہ جب تک سورج روشن اور چمک دار ہو تو مطلقاً نوافل بھی پڑھے جاسکتے ہیں جیسا کہ پیچھے تفصیل گزر چکی ہے۔ واللہ اعلم۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا مسنون ہیں، اور جو اس کو خاصہ قرار دے، اس پر دلیل لازم ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی عصر کے بعد دو رکعات پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے تفصیل کے لیے المحلیٰ لا بن حزم (2/34۔ 40) کا مطالعہ کریں۔ ان دورکعتوں کی وجہ صحيح مسلم (کتاب الصلاۃ، باب صـلاة المسافرين وقصرها، حدیث: 835) میں موجود ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آپ نماز عصر کے بعد دو رکعت کیوں پڑھتے ہیں، اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ دو رکعتیں نماز ظہر کے بعد پڑھتا تھا، میرے پاس مال آیا، مال نے مجھے مشغول کر دیا، میں وہی دونوں رکعتیں اب پڑھتا ہوں۔