حدیث نمبر: 5864
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ " ، وَقَالَ عَمْرٌو ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ النَّضْرَ ، سَمِعَ بَشِيرًا ، مِثْلَهُ .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے نضر بن انس نے ، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے مردوں کو منع فرمایا تھا ۔ اور عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے ، انہوں نے نضر سے سنا اور انہوں نے بشیر سے سنا ، آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5864
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2089 | سنن نسائي: 5189 | سنن نسائي: 5275 | سنن نسائي: 5276

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5864. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5864]
حدیث حاشیہ: اس روایت سے واضح ہے کہ سونے کی انگوٹھی کا استعمال مردوں کے لیے قطعاً حرام ہے جو شخص حلال جانے اس پر کفر عائد ہوتا ہے لیکن عورتوں کے لیے سونے کا استعمال کرنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5864 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5864. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5864]
حدیث حاشیہ:
(1)
بلاشبہ سونے کی انگوٹھی مردوں کے لیے حرام ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے کچھ زیورات بطور تحفہ بھیجے۔
ان میں ایک سونے کی انگوٹھی بھی تھی جس کا نگینہ حبشی انداز کا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیرتے ہوئے لکڑی یا انگلی سے تھاما اور اپنی نواسی حضرت امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو بلا کر کہا: ’’بیٹی! تم اسے پہن لو۔
‘‘ (سنن أبي داود، الخاتم، حدیث: 4235)
اگر سونا مردوں کے لیے حلال ہوتا تو آپ اس سے منہ نہ پھیرتے، نیز اگر عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو ہرگز نہ پہناتے۔
(2)
اگرچہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ وہ سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے لیکن ممکن ہے کہ انہیں ممانعت کی احادیث نہ پہنچی ہوں۔
عجیب بات ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ممانعت کی حدیث مروی ہے لیکن وہ بھی سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے اور انہیں لوگ کہتے کہ آپ سونے کی انگوٹھی کیوں پہنتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے؟ تو وہ جواب دیتے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی دیتے وقت فرمایا تھا کہ اسے پہنو جسے اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پہنایا ہے۔
شاید وہ اپنے لیے اسے خصوصیت پر محمول کرتے ہوں۔
بہرحال مردوں کے لیے اس کا پہننا جائز نہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 391/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5864 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2089 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5470]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا بالاتفاق حرام ہے، اگر کسی صحابی نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہے تو انہیں اس نہی کا علم نہیں ہو سکا ہو گا اور آغاز اسلام کی اباحت پر قائم رہا ہو گا اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے جو سونے کی انگوٹھی پہننے کی روایت منقول ہے، اگر اس کو صحیح فرض کر لیا جائے۔
۔
۔
چونکہ ان سے منع کرنے کی روایت مسلم میں گزر چکی ہے تو وہ نہی کو تنزیہی سمجھتے ہوں گے، یا چونکہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنائی تھی، اس لیے وہ اپنے لیے خصوصی اجازت کے قائل ہوں گے، (فتح الباري دارالمعرفة ج 10 ص 317)
۔
اور عورتوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ آپ نے خود حضرت امامہ بنت ابی العاص کو پہنائی تھی، (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 8 ص 278)
۔
اور اس پر بقول امام نووی مسلمانوں کا اجماع ہے کہ عورتوں کے لیے سونے کی انگوٹھی جائز ہے اور مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی حرام ہے اور ابن حزم کا مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کو جائز قرار دینا یا بعض کا مکروہ کہنا خلاف اجماع ہے، ابن حزم سے مراد ابوبکر بن محمد بن عمرو بن محمد بن حزم ہے اور اس کو ابن حزم ظاہری قرار دینا، انتہائی دیدہ دلیری ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2089 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5276 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5276]
اردو حاشہ: مندرجہ بالا چیزوں سے نہی صرف حضرت علی سے خاص نہیں امت کے تمام مردوں کے لیے ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھیے: 5175۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5276 سے ماخوذ ہے۔