حدیث نمبر: 5826
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ بِشِمَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَمِينِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يَوْمَ أُحُدٍ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمد بن بشر نے خبر دی ، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو ( جو فرشتے تھے ) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5826
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4054 | صحيح مسلم: 2306

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5826. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی ﷺ کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جو سفید لباس پہنے ہوئے تھے میں انہیں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ اس کے بعد دیکھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5826]
حدیث حاشیہ: گویا فرشتوں کا سفید کپڑوں میں نظر آنا، اس چیز کا ثبوت ہے کہ سفید کپڑوں کا لباس عنداللہ محبوب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5826 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5826. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی ﷺ کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جو سفید لباس پہنے ہوئے تھے میں انہیں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ اس کے بعد دیکھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5826]
حدیث حاشیہ:
(1)
وہ دو آدمی حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل تھے جیسا کہ ایک حدیث میں صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004 (2306) (2)
فرشتوں کا سفید لباس میں نظر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سفید لباس اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید لباس کی ترغیب دیتے تھے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفید لباس پہنا کرو، بلاشبہ یہ سب سے بہتر لباس ہے، اور اسی میں اپنی میتوں کو کفن دیا کرو۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4061)
اس سے معلوم ہوا سفید لباس پہننا اور میت کو سفید کفن دینا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5826 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4054 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4054. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کے ہمراہ دو آدمی ہیں جو آپ کی طرف سے لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے سفید لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ میں نے انہیں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4054]
حدیث حاشیہ:

صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004۔
(2306)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ احد میں فرشتوں کا نزول ہوا تھا اور انھوں نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا تھا۔

اس حدیث میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی فضیلت ہے۔
انھوں نے فرشتوں کو دیکھا اور انھیں شناخت بھی کیا۔

بہر حال نزول ملائکہ غزوہ بدر کے ساتھ مختص کرنا محل ہے، جیسا کہ بعض شارحین نے کہا ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4054 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2306 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں، سفید پوش دو آدمی دیکھے، جو آپ کی طرف سے انتہائی سخت جنگ لڑرہے تھے، میں نے نہ ان کو پہلے دیکھا اور نہ بعد میں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6005]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فرشتوں نے صرف جنگ بدر میں ہی حصہ نہیں لیا، بلکہ آپ کے تحفظ و دفاع کے لیے، اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہوں نے جنگ اُحد میں بھی حصہ لیا اور ایک عام انسان کی طرح جنگ کی، وگرنہ اپنی اصلی طاقت و قوت کے اعتبار سے تو ایک ہی فرشتہ کافروں کی تباہی اور بربادی کے لیے کافی تھا۔
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا، اللہ تعالیٰ انبیاء کے علاوہ بھی دوسرے نیک اور متقی انسانوں کو ان کی عزت و کرامت کے لیے فرشتوں کا دیدار کروا دیتا ہے اور ان کے ناموں کی تعیین، آپ کے بتانے پر ہوئی، کیونکہ آپ کی اطلاع کے بغیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے ان کو جبریل اور میکائیل کا نام دینا ممکن نہ تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2306 سے ماخوذ ہے۔