صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ الْخَمِيصَةِ السَّوْدَاءِ: باب: کالی کملی کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ لِي : يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ ، فَغَدَوْتُ بِهِ ، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُرَيْثِيَّةٌ ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ " .´مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ابن عون نے ، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لاؤ تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا اس کے منہ میں ڈالیں ۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ کے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر ( «خميصة حريثية» ) تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
شاید اس نے یہ کملیاں بنانا شروع کی ہوں گی بعض روایتوں میں خیبری ہے۔
بعض میں جونی یہ بنی الجون کی طرف نسبت ہے۔
حافظ نے کہا جونی کملی اکثر یہاں ہوتی ہے۔
اسی سے ترجمہ باب کی مطابقت ہو گئی۔
کالی کملی رکھنے اوڑھنے کے بہت سے فوائد ہیں اور سب سے بڑا فائدہ یہ کہ ایسی کملی رکھنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہوتی ہے جو ہمارے لیے سب سے بڑی سعادت ہے اللھم ارزقنا آمین۔
حریثی حریث نامی کپڑا بنانے والے کی طرف نسبت ہے۔
(1)
خمیصہ کالی چادر کو کہتے ہیں جو حریث کی طرف منسوب ہے۔
ممکن ہے کہ قبیلۂ قضاعہ کا یہ شخص اس قسم کی اونی چادریں بناتا ہو۔
بعض حضرات نے اسے جونیہ پڑھا ہے جو بنی جون کی طرف منسوب ہے یا اس کا رنگ سیاہ و سفید تھا، اس بنا پر اسے جونیہ کہا گیا ہے۔
(2)
اس سیاہ اونی چادر کے بہت سے فوائد ہیں: سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایسی سیاہ گرم چادر رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک اونی چادر کو سیاہ رنگ سے رنگ دیا، آپ نے اسے زیب تن فرمایا مگر جب اس میں پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اون کی بو محسوس کی تو اسے اتار پھینکا۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4074)
حويتية: مچھلی کی طرح دھاری دار۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام بیت المال کے جانوروں کو امتیاز اور علامت کے طور پر خود نشان یا داغ لگا سکتا ہے اور بقول بعض اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔