مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5815
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا ، قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا " .
مولانا داود راز

´مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ، ان سے عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے ” یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہو گئے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے ( مسلمانوں کو ) ڈرا رہے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5815
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5815. سیدہ عائشہ اور حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے ان دونوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی چادر (کملی) کو چہرے پر ڈالتے تھے اور سب سانس گھٹنے لگتا تو چہہ کھول دیتے آپ نے اسی حالت میں فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا۔ آپ ﷺ ان کے عمل بد سے مسلمانوں کو ڈرا رہے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5815]
حدیث حاشیہ: یہود ونصاریٰ سے بڑھ کر کمبخت وہ مسلمان ہیں جنہوں نے بزرگوں اور درویشوں کی قبور کو مزین کرکے دکانوں کی شکل دے رکھی ہے اور وہاں لوگوں سے سجدہ کراتے ہیں اور عرض کرتے ہیں وہاں عرضیاں لٹکاتے نیازیں چڑھاتے ہیں۔
یہ لوگ قبر کے باہر سے یہ کام کرتے ہیں اور وہ بزرگ قبروں کے اندر سے ان پر لعنت بھیجتے ہیں کیونکہ یہ سب بزرگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش بردار اور آپ کی مرضی پر چلنے والے ہیں یہی قبروں کے پجاری عنداللہ مشرک اور ملعون ہیں خواہ یہ کیسے ہی نمازی وحاجی ہوں۔
ہرگز تو ازاں قو نباشی کہ فریبند حق را بہ سجودے ونبی را بہ درودے
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5815 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5815. سیدہ عائشہ اور حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے ان دونوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی چادر (کملی) کو چہرے پر ڈالتے تھے اور سب سانس گھٹنے لگتا تو چہہ کھول دیتے آپ نے اسی حالت میں فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا۔ آپ ﷺ ان کے عمل بد سے مسلمانوں کو ڈرا رہے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5815]
حدیث حاشیہ:
(1)
ہمارے ہاں مسلمانوں کی ایک ایسی قسم بھی دستیاب ہے جنہوں نے یہودونصاریٰ کی طرح بزرگوں کی قبروں کو مزین کر کے دکانوں کی شکل دے رکھی ہے، وہاں لوگوں سے سجدے کراتے، عرضیاں لٹکاتے اور نیازیں چڑھاتے ہیں۔
یہ لوگ تو قبر پر اپنی دوکانداری چمکاتے ہیں اور قبر کے اندر بزرگ ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔
یہ لوگ اللہ کے ہاں ملعون ہیں، خواہ وہ حاجی اور نمازی ہی کیوں نہ ہوں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے "خميصة" یعنی سیاہ نقش و نگار والا کمبل ثابت کیا ہے کہ اسے استعمال کیا جا سکتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آخری وقت میں اپنے اوپر اوڑھا تھا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5815 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔