صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ الْقَبَاءِ وَفَرُّوجِ حَرِيرٍ: باب: قباء اور ریشمی فروج کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : " أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " ، تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ اللَّيْثِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، فَرُّوجٌ حَرِيرٌ .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج ( قباء ) ہدیہ میں دی گئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا ( ریشم کا مردوں کے لیے حرمت کے حکم سے پہلے ) اور اسی کو پہنے ہوئے نماز پڑھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی تیزی کے ساتھ اتار ڈالا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں پھر فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے ۔ اس روایت کی متابعت عبداللہ بن یوسف نے کی ان سے لیث نے اور عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «فروج حرير.» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس کا جواب یہ ہے کہ شاید اس وقت تک ریشمی کپڑا مردوں کے لیے حرام نہ ہوا ہو گا یا آپ نے اس قبا کو بطور حفاظت اپنے اوپر ڈال لیا ہوگا، یہ پہننا نہیں ہے جیسے کوئی کسی کو دینا چاہتا ہو اس کے بعد ریشمی کپڑا مردوں پر حرام ہو گیا۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی قبا پہن کر مغرب کی نماز پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد اسے جلدی سے اتار پھینکا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے پہنا پھر اس میں نماز ادا کی، تو آپ نے مذکورہ جواب دیا۔
ابن بطال کہتے ہیں کہ آپ نے اسے جلدی سے اتارا کیونکہ ریشم کا استعمال مردوں کے لیے حرام تھا اور یہ قبا خالص ریشم کی تھی یا اس لیے اتارا کہ وہ عجمیوں کا لباس تھا۔
حدیث میں ہے: ’’جس نے کسی قسم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہو گا۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4031)
بہرحال ریشم مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے جائز ہے جس کی آئندہ وضاحت ہو گی۔
(فتح الباري: 334/10)
1۔
امام بخاری ؒ کے نزدیک اگر کوئی شخص ریشم کا لباس پہن کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز ہو جائے گی۔
ریشم پہننے کا گنا ہ اسے ضرور ملے گا، کیونکہ اس کا پہننا مردوں کے لیے حرام ہے۔
جیسا کہ محرم کے لیے سلا ہوا کپڑا پہننا حرام ہے، لیکن اگر پہن لے اور نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہو جائے گی۔
ان عوارض کی وجہ سے جو نقصان آتا ہے، اس کی تعبیر کراہت سے کی جاتی ہے۔
چنانچہ علامہ خطابی ؒ کہتے ہیں کہ جو شخص ریشمی کپڑا پہن کر نماز ادا کرتا ہے، اس کی نماز صحیح ہے، اگرچہ ہمارے نزدیک مکروہ ہے۔
(إعلام الحدیث: 357/1)
یہ بھی واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو ریشمی کوٹ پہن کر نماز پڑھی تھی وہ دومة الجندل کے بادشاہ اکیدر بن عبدالملک نے آپ کو بطور تحفہ دیا تھا۔
(صحیح مسلم، اللباس، حدیث: 5422 (2071)
صحیح مسلم ہی میں قبائے دیباج کا ذکر ہے۔
اس میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حضرت جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کر دیا تھا۔
(صحیح مسلم، اللباس، حدیث: 5419 (2070)
اس لیے ممکن ہے کہ یہ نماز ریشمی کپڑا پہننے کی حرمت سے پہلے ادا کی ہو اور جب آپ کو اس کی حرمت کا پتہ چلا تو آپ نے ناگواری کے ساتھ اپنے جسم سے الگ فرمادیا۔
اور اگر آپ نے اس نہی سے پہلے اتاراتو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تحریم و ممانعت سے پہلے بھی حق تعالیٰ کی مرضیات پر نظر رکھتے تھے۔
2۔
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب تک آپ نے ریشم استعمال نہیں کیا تھا اس وقت تک آپ کو اس کے عیب و نقصان کا انداز ہ نہ تھا جب آپ نے استعمال کیا تو اس کا عیب معلوم ہوا کہ یہ تو عیش پرست لوگوں کا لباس ہے اور اس کے استعمال سے جسم میں نرمی پیدا ہوجاتی ہے جو مردانہ جفاکشی اور سخت کوشی کے خلاف ہے۔
مرد کا جسم تومضبوط ہونا چاہیے، اس لیے آپ نے اتارتے وقت فرمایا: ’’یہ تقوی شعار لوگوں کا لباس نہیں عیش پرستوں کا لباس ہے لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
‘‘ واضح رہے کہ شریعت نے چند ضرورتوں کے پیش نظر ریشم کے استعمال کی اجازت دی ہے، مثلاً: جہاد کے موقع پر زرہ کے نیچے ریشم کا استعمال درست ہے، تاکہ اگر دشمن کی تلوار زرہ کو کاٹ دے تو ریشم پر جا کروہ بے کار ہو جائے۔
کوئی اور کپڑا نہیں تو ستر پوشی یا سردی سے حفاظت کے لیے استعمال کیا جائے۔
خشونت جسم کی وجہ سے خشک خارش یا جوئیں پڑگئی ہوں تو بغرض علاج اسے پہنا جا سکتا ہے۔
اس کے متعلق دیگر مسائل کتاب اللباس میں بیان ہوں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی قباء ہدیے میں دی گئی، تو آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو اسے زور سے اتار پھینکا جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اہل تقویٰ کے لیے یہ مناسب نہیں۔" [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 771]