صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ: باب: جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا چلے اس کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 5790
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ ، إِذْ خُسِفَ بِهِ ، فَهُوَ يَتَجَلَّلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، تَابَعَهُ يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایک شخص غرور میں اپنا تہمد گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اسی طرح قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا ۔ “ اس کی متابعت یونس نے زہری سے کی ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5790. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سےروایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”ایک آدمی اپنا تہبند گھسیٹ کر چل رہا تھا کہ اچانک اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ یونس نے زہری سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن خالد کی متابعت کی ہے شعیب نے اس حدیث کو امام زہری سے مرفوعاً بیان نہیں کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5790]
حدیث حاشیہ:
کہتے ہیں کہ جسے زمین میں دھنسایا گیا وہ بدبخت قارون تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔
افسوس کہ دور حاضر میں بے شمار ایسے قارون گھر گھر موجود ہیں جو فیشن کے طور پر اپنے تہ بند، شلوار یا پینٹ وغیرہ کو فخر و تکبر کے طور پر زمین پر گھسیٹ کر چلتے ہیں۔
ایسے فیشن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔
ہمیں اس کے متعلق نظر ثانی کرنا ہو گی۔
یہ بہت ہی خطرناک عادت ہے۔
سزا کے طور پر زمین میں دھنسایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
آمین
کہتے ہیں کہ جسے زمین میں دھنسایا گیا وہ بدبخت قارون تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔
افسوس کہ دور حاضر میں بے شمار ایسے قارون گھر گھر موجود ہیں جو فیشن کے طور پر اپنے تہ بند، شلوار یا پینٹ وغیرہ کو فخر و تکبر کے طور پر زمین پر گھسیٹ کر چلتے ہیں۔
ایسے فیشن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔
ہمیں اس کے متعلق نظر ثانی کرنا ہو گی۔
یہ بہت ہی خطرناک عادت ہے۔
سزا کے طور پر زمین میں دھنسایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
آمین
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5790 سے ماخوذ ہے۔