صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ: باب: جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا چلے اس کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 5789
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی یا ( یہ بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( بنی اسرائیل میں ) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست ، سر کے بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا رہے گا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5789. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کے نبی ﷺ نے فرمایا:۔۔۔ یا (کہا کہ) حضرت ابو القاسم ﷺ نے فرمایا:۔۔۔۔۔ ایک آدمی جوڑا پہنے ہوئے اور اپنے بالوں میں کنگھی کر کے فخر وغرور سے چل رہا تھا کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا ”وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5789]
حدیث حاشیہ: یہ قارون یا ہیزن فارس کا رہنے والا شخص تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5789 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2088 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس دوران کہ ایک آدمی چل رہا تھا اور اپنے کندھوں پر پڑنے والے بالوں اور اپنی دونوں چادروں پر اترا رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5465]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
جمة: سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل: وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل: بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
(1)
جمة: سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل: وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل: بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2088 سے ماخوذ ہے۔