صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فَهْوَ فِي النَّارِ: باب: کپڑا جو ٹخنوں سے نیچے ہو (ازار ہو یا کرتہ یا چغہ) وہ اپنے پہننے والے مرد کو دوزخ میں لے جائے گا جب کہ وہ پہننے والا متکبر ہو۔
حدیث نمبر: 5787
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ " .مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہو گا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5787. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تہبند کا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہوگا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5787]
حدیث حاشیہ: وہ تہمد والا حصہ جسم کے ساتھ دوزخ میں جلایا جائے گا۔
اور یہ اس تکبر کی سزا ہوگی جس کی وجہ سے اس شخص نے وہ تہمد ٹخنوں سے نیچے لٹکایا۔
أعاذنا اللہ آمین۔
اور یہ اس تکبر کی سزا ہوگی جس کی وجہ سے اس شخص نے وہ تہمد ٹخنوں سے نیچے لٹکایا۔
أعاذنا اللہ آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5787 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5787. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تہبند کا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہوگا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5787]
حدیث حاشیہ:
(1)
ٹخنوں سے نیچے کپڑا کرنے کی دو صورتیں ہیں: ایک عادت کے طور پر اور دوسرا تکبر کے پیش نظر۔
شریعت میں دونوں صورتیں مذموم ہیں۔
ہاں، اگر کوئی عذر ہو تو قابل مؤاخذہ نہیں۔
عذر کے بغیر ایسا کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور ان دونوں کی الگ الگ سزا ہے۔
(2)
اس حدیث میں پہلی صورت کا بیان ہے کہ کپڑے کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں جائے گا اور پہننے والے کو بھی گھسیٹ لے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’مسلمان کا تہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، آدھی پنڈلی سے ٹخنوں تک کے مابین میں کوئی حرج نہیں اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4093)
ایک روایت میں ہے: ’’چادر وغیرہ کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں۔
‘‘ (سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5331)
(1)
ٹخنوں سے نیچے کپڑا کرنے کی دو صورتیں ہیں: ایک عادت کے طور پر اور دوسرا تکبر کے پیش نظر۔
شریعت میں دونوں صورتیں مذموم ہیں۔
ہاں، اگر کوئی عذر ہو تو قابل مؤاخذہ نہیں۔
عذر کے بغیر ایسا کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور ان دونوں کی الگ الگ سزا ہے۔
(2)
اس حدیث میں پہلی صورت کا بیان ہے کہ کپڑے کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں جائے گا اور پہننے والے کو بھی گھسیٹ لے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’مسلمان کا تہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، آدھی پنڈلی سے ٹخنوں تک کے مابین میں کوئی حرج نہیں اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4093)
ایک روایت میں ہے: ’’چادر وغیرہ کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں۔
‘‘ (سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5331)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5787 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5333 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ جہنم کی آگ میں ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5333]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ جہنم کی آگ میں ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5333]
اردو حاشہ: ”آگ میں جائے گی“ گویا وہ شخص آگ میں جائے گا البتہ آگ متعلقہ حصے تک ہی ہو گی۔ جب تک سزا پوری نہیں ہو گی وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5333 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5332 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہو گا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5332]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہو گا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5332]
اردو حاشہ: یہ سزا تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے کی ہے خواہ تکبر کے بغیر ہو۔ الا یہ کہ سستی سے کبھی کبھار تہبند نیچا ہو جائے اور توجہ ہونے پر فوراً اونچا کر لیا جائے تو پھر یہ وعید اور سزا نہیں ہو گی۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5332 سے ماخوذ ہے۔