صحيح البخاري
كتاب اللباس— کتاب: لباس کے بیان میں
بَابُ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنْ غَيْرِ خُيَلاَءَ: باب: اگر کسی کا کپڑا یوں ہی لٹک جائے تکبر کی نیت نہ ہو تو گنہگار نہ ہو گا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجُلِّيَ عَنْهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، وَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يَكْشِفَهَا " .´مجھ سے بیکندی محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` سورج گرہن ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ جلدی میں کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی جمع ہو گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی ، گرہن ختم ہو گیا ، تب آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ” سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لیے جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں ٹخنوں سے نیچے کپڑا ہونے کی دوسری استثنائی صورت بیان ہوئی ہے کہ بعض اوقات انسان جلدی میں اٹھتا ہے تو بے خیالی میں اس کی چادر ٹخنوں سے نیچے ہو جاتی ہے۔
ایسی صورت میں قابل مؤاخذہ نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اچانک چلنے پر اپنی چادر گھسیٹنے کا ذکر ہے، یعنی اگر قصد و ارادے کے بغیر چادر ٹخنوں کے نیچے ہو جائے اور زمین پر گھسٹنے لگے تو کوئی گناہ نہیں۔
اسی طرح خواتین بھی اس وعید سے مستثنیٰ ہیں، نیز اگر ٹخنوں پر پھوڑے پھنسیاں ہیں اور انہیں ڈھانپنے کے لیے چادر ٹخنوں سے نیچے ہو جائے تو اس میں بھی مواخذہ نہیں ہو گا۔
إن شاء اللہ
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ ایک حدیث بیان کرکے اس کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کر تے ہیں اور باب کا مطلب اس سے نکالتے ہیں (وحیدی)
سیرت ابن حبان میں ہے کہ 5ھ میں چاند گرہن بھی ہوا تھا اورآنحضرت ﷺ نے اس میں بھی نماز با جماعت ادا کی تھی۔
معلوم ہو اکہ چاند گرہن اور سورج گرہن ہر دو کا ایک ہی حکم ہے، مگر ہمارے محترم برادران احناف چاند گرہن کی نماز کے لیے نماز با جماعت کے قائل نہیں ہیں۔
اس کو تنہا پڑھنے کا فتویٰ دیتے ہیں۔
اس باب میں ان کے پاس بجزرائے قیاس کوئی دلیل پختہ نہیں ہے، مگر ان کو اس پر اصرار ہے، لیکن سنت رسول کے شیدائیوں کے لیے آنحضرت ﷺ کا طور طریقہ ہی سب سے بہتر عمدہ چیز ہے۔
الحمد لله علی ذلك۔