صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیئے جانے سے متعلق بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : " لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سَمٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ ، فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَبُوكُمْ ؟ ، قَالُوا : أَبُونَا فُلَانٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبْتُمْ ، بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ ، فَقَالُوا : صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا ، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَهْلُ النَّارِ ؟ ، فَقَالُوا : نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اخْسَئُوا فِيهَا ، وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سَمًّا ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا : أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَذَّابًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ " .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے ، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ` جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی ( ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے پیش کی تھی ) جس میں زہر بھرا ہوا تھا ، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں پر جتنے یہودی ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو ۔ چنانچہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کئے گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا کیا تم مجھے صحیح صحیح بات بتا دو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم ! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا پردادا کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ فلاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تمہارا پردادا تو فلاں ہے ۔ اس پر وہ بولے کہ آپ نے سچ فرمایا ، درست فرمایا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں گا تو تم مجھے سچ سچ بتا دو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم ! اور اگر ہم جھوٹ بولیں بھی تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ ابھی ہمارے پردادا کے متعلق آپ نے ہمارا جھوٹ پکڑ لیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ والے کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تو ہم اس میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے ، واللہ ! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے ۔ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا کیا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو تم مجھے اس کے متعلق صحیح صحیح بتا دو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا ، انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس کام پر کس جذبہ نے آمادہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر سچے ہوں گے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
اگر ایسا ہوتا تو آپ اسے اپنے ہاتھ نہ لگاتے مگر بعد میں وحی سے معلوم ہوا سچ فرمایا ﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾ (الاعراف: 188)
اگر میں غیب جانتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور کبھی مجھ کو برائی نہ چھو سکتی۔
معلوم ہوا کہ آپ کے لیے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ بالکل باطل ہے۔
دوسری روایت میں یوں ہے کہ وہ عورت کہنے لگی جس نے زہر ملایا تھا کہ آپ نے میرے بھائی، خاوند اور قوم والوں کو قتل کرایا میں نے چاہا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو یہ گوشت خود آپ سے کہہ دے گا اور اگر آپ دنیا دار بادشاہ ہیں تو آپ سے ہم کو راحت مل جائے گی۔
(1)
یہودیوں کا یہ خیال صحیح ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زہر کے متعلق بذریعۂ وحی مطلع کر دیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا گوشت چکھ لیا تھا جس کا اثر آخر دم تک رہا جیسا کہ حضرت عائشہ سے مروی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4428) (2)
بکری کا زہر آلود گوشت پیش کرنے والی سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی۔
اس نے کہا: آپ نے میرے باپ، خاوند، چچا اور بھائی کو قتل کیا ہے اور میری قوم کو بہت نقصان سے دوچار کیا، اس لیے میں نے چاہا کہ اپنے غصے کی آگ بجھاؤں۔
اگر آپ سچے رسول ہیں تو گوشت بول کر آپ سے کہہ دے گا اور اگر آپ دنیا دار بادشاہ ہیں تو ہمیں آپ سے راحت مل جائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت بشر بن براء رضی اللہ عنہ تھے جو موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
(فتح الباري: 303/10) (3)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ زہر کا اثر انداز ہونا بھی متعدی بیماری کی طرح اللہ تعالیٰ کے اذن پر موقوف ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بداثرات سے محفوظ رہے اور آپ کے صحابی حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ موقع پر ہی جان بحق ہو گئے۔
اس نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو دست کا گوشت بہت پسند ہے۔
اس نے اسی میں خوب زہر ملایا۔
آپ نے نوالہ چکھ کر تھوک دیا۔
بشربن براءؓ کھاگئے وہ مر گئے دوسرے صحابہ ؓ کو آپ نے منع فرمایا اور بتلادیا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔
بیہقی کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس عورت کو بلا کر پوچھا۔
وہ کہنے لگی میں نے یہ اس لیے کیا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو اللہ آپ کو خبر کر دےگا اگر آپ جھوٹے ہیں تو آپ کا مرنا بہتر ہے۔
ابن سعد کی روایت میں ہے جب بشر بن براءؓ زہر کے اثر سے مر گئے تو آپ نے اس عورت کو بشر ؓ کے وارثوں کے حوالہ کردیا اور انہوں نے اس کو قتل کردیا اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ زہر دے کر مار ڈالنا بھی قتل عمد ہے اور اس میں قصاص لازم آتا ہے اور حنفیہ کا رد ہوا جو اسے قتل بالسبب کہتے ہیں اور قصاص کو اس میں ساقط کرتے ہیں۔
(وحیدی)
رسول اللہ ﷺ کی عادت تھی کہ تالیف قلبی کے لیے ہر پیش کرنے والے کا ہدیہ قبول کر لیتے اور اسے کھابھی لیتے تھے، اس بنا پر فتح خیبر کے بعد سلام بن مشکم یہودی کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ کی دعوت کا اہتمام کیا اور گوشت کا جو حصہ آپ کو تمام گوشت سے زیادہ پسندتھا اس میں سخت ترین زہرملا دیا۔
رسول اللہ ﷺ کو لقمہ منہ میں ڈالتے ہی پتہ چل گیا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے لیکن آپ کے ساتھ ایک صحابی حضرت بشربن براء بن معرور ؓ تھے انھوں نے اسے کھایا تو وہ اس کے اثر کی وجہ سے فوراًوفات پا گئے۔
آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا: میں نے آپ کا امتحان لینے کے لیے یہ سنگین اقدام کیا تھا۔
آپ نے اپنے طور پر تو اسے معاف کر دیا لیکن بشربن براء بن معرو ؓ کے قصاص میں اسے قتل کردیا۔
(فتح الباري: 622/7)
1۔
خیبر کے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺکے خلاف یہ ناپاک منصوبہ بنایا اور اسے ایک عورت کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
وہ عورت مرحب یہودی کی بہن تھی جس کانام زینب بنت حارث تھا۔
یہودیوں کی طرف سے یہ غداری تھی کہ انھوں نے ایک یہودیہ کو آلہ کار بنا کررسول اللہ ﷺ کوزہریلا گوشت پیش کیا۔
آپ نے کسی مصلحت کی بنا پر انھیں معاف کردیا۔
ایک روایت کے مطابق ایک صحابی بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس زہریلے گوشت سے فوت ہوگئے تھے تو آپ نے وہ عورت ان کے لواحقین کے حوالے کردی، انھوں نےاسے قصاصاً قتل کردیا۔
(سنن أبي داود، الدیات، حدیث: 4512 و الطبقات الکبریٰ لابن سعد: 202/2)
چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس یہودی عورت کو قتل کرنے کی اجازت مانگی جس نے بکری میں زہرملایاتھا تو آپ نے اجازت نہ دی بلکہ آپ نے معاف کردیا۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5706(2190)
لہذا یہ صحیح ہے کہ اس موقع پر آپ نے اسے معاف کردیا اور بعد میں جب آپ کو علم ہوا کہ بشر اس زہر کی وجہ سے وفات پاگئے ہیں تو قصاصاً اسے قتل کروادیاتھا۔
واللہ أعلم۔
2۔
اس حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ہم کبھی دوزخ میں تمہارے جانشیں نہیں بنیں گے‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ گار مسلمان تو جہنم میں جائیں گے لیکن انھیں بالآخر نکال لیا جائے گا، البتہ یہودی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے، یعنی خلود اور عدم خلود کی وجہ سے متفرق ہوجائیں گے۔