صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ لاَ عَدْوَى: باب: امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5776
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ " ، قَالُوا : وَمَا الْفَأْلُ ، قَالَ : " كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ " .مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا کوئی چیز نہیں ہے اور بدشگونی نہیں ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے ۔ صحابی نے عرض کیا نیک فال کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے سن لینا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5776. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”چھوت لگنا کوئی چیز نہیں اور بد شگونی کی بھی کوئی حیثیت نہیں البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: نیک فال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کسی سے اچھی بات کہنا یا سننا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5776]
حدیث حاشیہ: کوئی کلمہ خیر سن پانا جس سے کسی خیر کو مراد لیا جاسکتا ہو یہ نیک فالی ہے جس کی ممانعت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5776 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5776. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”چھوت لگنا کوئی چیز نہیں اور بد شگونی کی بھی کوئی حیثیت نہیں البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: نیک فال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کسی سے اچھی بات کہنا یا سننا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5776]
حدیث حاشیہ:
شریعت نے مطلق طور پر متعدی امراض کی نفی کی ہے اگرچہ اطباء حضرات اسے نہیں مانتے، بلکہ اس کی عقلی طور پر مختلف توجیہیں کرتے ہیں کہ بیماری جراثیم کے ذریعے سے پھیلتی ہے لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جراثیم کا اثر بھی اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں موجود قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، گویا اصل سبب جراثیم کا وجود نہیں بلکہ جسم کے حفاظتی نظام کی کمزوری ہے۔
یہ حضرات کان کو الٹی جانب سے پکڑتے ہیں۔
خاموشی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حقیقت کو تسلیم کریں اور اسے اپنے دل میں جگہ دیں۔
اسی میں عافیت ہے۔
واللہ المستعان
شریعت نے مطلق طور پر متعدی امراض کی نفی کی ہے اگرچہ اطباء حضرات اسے نہیں مانتے، بلکہ اس کی عقلی طور پر مختلف توجیہیں کرتے ہیں کہ بیماری جراثیم کے ذریعے سے پھیلتی ہے لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جراثیم کا اثر بھی اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں موجود قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، گویا اصل سبب جراثیم کا وجود نہیں بلکہ جسم کے حفاظتی نظام کی کمزوری ہے۔
یہ حضرات کان کو الٹی جانب سے پکڑتے ہیں۔
خاموشی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حقیقت کو تسلیم کریں اور اسے اپنے دل میں جگہ دیں۔
اسی میں عافیت ہے۔
واللہ المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5776 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5756 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5756. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”چھوت چھات بے اصل ہے اور بد شگونی کی بھی کوئی حقیقت نہیں، مجھے تو اچھی فال پسند ہے۔ یعنی کوئی کلمہ خیر یا اچھی بات کسی سے سنی جائے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5756]
حدیث حاشیہ: حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بد شگونی کا ذکر آیا توآپ نے فرمایا کہ فَإذا رَأى أحَدُكُمْ ما يَكْرَه فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ لا يَأتي بالحَسَناتِ إلا أنتَ، وَلا يَدْفَعُ السَّيِّئاتِ إلا أنْتَ، وَلا حوْلَ وَلا قُوَّةَ إلا بِكَ (فتح)
یعنی اگر تم میں سے کوئی ایسی مکروہ چیز دیکھے تو کہے یا اللہ! تمام بھلائیاں لانے والا تو ہی ہے اور برائیوں کا دفع کرنے والا بھی تیرے سوا کوئی نہیں ہے گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اور ان کا سر چشمہ اے اللہ! تو ہی ہے۔
یعنی اگر تم میں سے کوئی ایسی مکروہ چیز دیکھے تو کہے یا اللہ! تمام بھلائیاں لانے والا تو ہی ہے اور برائیوں کا دفع کرنے والا بھی تیرے سوا کوئی نہیں ہے گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اور ان کا سر چشمہ اے اللہ! تو ہی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5756 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5756 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5756. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”چھوت چھات بے اصل ہے اور بد شگونی کی بھی کوئی حقیقت نہیں، مجھے تو اچھی فال پسند ہے۔ یعنی کوئی کلمہ خیر یا اچھی بات کسی سے سنی جائے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5756]
حدیث حاشیہ:
(1)
بدشگونی کو اس لیے بے اصل قرار دیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور اچھی فال سے اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن پیدا ہوتا ہے جس کا ایک مومن کو حکم دیا گیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ضرورت کے لیے نکلتے تو آپ کو یہ امر پسند ہوتا تھا کہ آپ يا راشد اور يا نجيح کے الفاظ سنیں۔
(جامع الترمذي، السیر، حدیث: 1616) (2)
اسی طرح بیمار آدمی جب سلامتی اور تندرستی کا سنے تو خوش ہوتا ہے، نیز لڑائی کے لیے جانے والا شخص راستے میں کسی ایسے شخص سے ملے جس کا نام فتح خاں ہو، اس سے اچھی فال لی جا سکتی ہے کہ اس جنگ میں ہماری فتح ہو گی۔
اللہ تعالیٰ نے طبعی طور پر انسان کے دل میں اچھی چیز کی محبت پیدا کی ہے جیسا کہ اچھی چیز دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور صاف پانی دیکھ کر سرور آتا ہے اگرچہ اسے پینے یا استعمال کرنے کی ہمت نہ ہو۔
(3)
بہرحال جائز فال صرف اسی قدر ہے کہ قصد و ارادے کے بغیر کوئی اچھا لفظ کان میں پڑ جائے تو انسان اسے سن کر اللہ تعالیٰ سے اچھی امید وابستہ کرے۔
واللہ أعلم
(1)
بدشگونی کو اس لیے بے اصل قرار دیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور اچھی فال سے اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن پیدا ہوتا ہے جس کا ایک مومن کو حکم دیا گیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ضرورت کے لیے نکلتے تو آپ کو یہ امر پسند ہوتا تھا کہ آپ يا راشد اور يا نجيح کے الفاظ سنیں۔
(جامع الترمذي، السیر، حدیث: 1616) (2)
اسی طرح بیمار آدمی جب سلامتی اور تندرستی کا سنے تو خوش ہوتا ہے، نیز لڑائی کے لیے جانے والا شخص راستے میں کسی ایسے شخص سے ملے جس کا نام فتح خاں ہو، اس سے اچھی فال لی جا سکتی ہے کہ اس جنگ میں ہماری فتح ہو گی۔
اللہ تعالیٰ نے طبعی طور پر انسان کے دل میں اچھی چیز کی محبت پیدا کی ہے جیسا کہ اچھی چیز دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور صاف پانی دیکھ کر سرور آتا ہے اگرچہ اسے پینے یا استعمال کرنے کی ہمت نہ ہو۔
(3)
بہرحال جائز فال صرف اسی قدر ہے کہ قصد و ارادے کے بغیر کوئی اچھا لفظ کان میں پڑ جائے تو انسان اسے سن کر اللہ تعالیٰ سے اچھی امید وابستہ کرے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5756 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1615 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے “، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ” اچھی بات۔“ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1615]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے “، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ” اچھی بات۔“ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1615]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پرہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔
وضاحت:
1؎:
چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پرہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1615 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3915 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3915]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3915]
فوائد ومسائل:
نیک فال جیسے کہ نبی ﷺ نے صلح حدیبیہ کے مو قع پر اہلِ مکہ کے نمائیدہ سہیل بن عمرو کی آمد پر فرمایا تھا، اب تمھارا معاملہ سہل ہو گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث2732-2731)
نیک فال جیسے کہ نبی ﷺ نے صلح حدیبیہ کے مو قع پر اہلِ مکہ کے نمائیدہ سہیل بن عمرو کی آمد پر فرمایا تھا، اب تمھارا معاملہ سہل ہو گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث2732-2731)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3915 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3537 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3537]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3537]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
اہل عرب کسی کام کے لئے جاتے تو راستے میں بیٹھے ہوئے کسی پرندے یا ہرن وغیرہ کو کنکر مارتے اور وہ دیکھتے کہ وہ کس طرف جاتا ہے۔
اگر وہ دایئں طرف جاتا ہے تو کہتے کام ہوجائے گا۔
اگر بایئں طرف جاتا تو کہتے یہ کام نہیں ہوگا۔
یا اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
اور کام کئے بغیر واپس ہوجاتے۔
(2)
اس انداز سے فال لیناشرعا منع ہے۔
(3)
ہندسوں اور حرفوں پر انگلی رکھنا، طوطے سے فال نکلوانا اور ااس قسم کے مختلف طریقوں سے فال نکالنا سب منع ہے۔
(4)
جائز فال صرف اس قدر ہے کہ بلا ارادہ کوئی اچھا لفظ کان میں پڑے اور انسان اس کی وجہ یہ امید رکھے کہ اللہ مجھے میرے مقصد میں کامیاب کردے گا۔
اس میں سننے والے کے قصد و ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
فوائد ومسائل: (1)
اہل عرب کسی کام کے لئے جاتے تو راستے میں بیٹھے ہوئے کسی پرندے یا ہرن وغیرہ کو کنکر مارتے اور وہ دیکھتے کہ وہ کس طرف جاتا ہے۔
اگر وہ دایئں طرف جاتا ہے تو کہتے کام ہوجائے گا۔
اگر بایئں طرف جاتا تو کہتے یہ کام نہیں ہوگا۔
یا اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
اور کام کئے بغیر واپس ہوجاتے۔
(2)
اس انداز سے فال لیناشرعا منع ہے۔
(3)
ہندسوں اور حرفوں پر انگلی رکھنا، طوطے سے فال نکلوانا اور ااس قسم کے مختلف طریقوں سے فال نکالنا سب منع ہے۔
(4)
جائز فال صرف اس قدر ہے کہ بلا ارادہ کوئی اچھا لفظ کان میں پڑے اور انسان اس کی وجہ یہ امید رکھے کہ اللہ مجھے میرے مقصد میں کامیاب کردے گا۔
اس میں سننے والے کے قصد و ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3537 سے ماخوذ ہے۔