حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ عَنِ الْكُهَّانِ ، فَقَالَ : لَيْسَ بِشَيْءٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَا أَحْيَانًا بِشَيْءٍ فَيَكُونُ حَقًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ ، يَخْطَفُهَا مِنَ الْجِنِّيِّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ ، وَلِيِّهِ فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ " ، قَالَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : مُرْسَلٌ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَسْنَدَهُ بَعْدَهُ .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے ، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! بعض اوقات وہ ہمیں ایسی چیزیں بھی بتاتے ہیں جو صحیح ہو جاتی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلمہ حق ہوتا ہے ۔ اسے کاہن کسی جننی سے سن لیتا ہے وہ جننی اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال جاتا ہے اور پھر یہ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں ۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ عبدالرزاق اس کلمہ «تلك الكلمة من الحق» کو مرسلاً روایت کرتے تھے پھر انہوں نے کہا مجھ کو یہ خبر پہنچی کہ عبدالرزاق اس کے بعد اس کو مسنداً عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
پہلے شیاطین آسمان پر جا کر فرشتوں کی بات اڑا لیتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کہانت کی یہ قسم موقوف ہو گئی۔
اب آسمان پر اتنا شدید پہرہ ہے کہ شیطان وہاں پھٹکنے نہیں پاتے۔
اب ایسے کاہن بھی موجود نہیں جو شیطان سے اس قسم کا تعلق رکھتے ہوں کہ وہ انہیں غیب کی خبریں بتائیں۔
اس دور کے نجومی اور کاہن محض اٹکل اور اندازے سے بات کرتے ہیں۔
اگر ان کی کوئی بات اتفاق سے صحیح نکل آئے تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے بلکہ اس کی پرزور تردید کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام الناس ان کے جال میں نہ پھنسیں اور غلط عقائد کا شکار نہ ہوں، ان کے علم کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی بلکہ یہ لوگ گندے اور پلید رہنے کی وجہ سے جہالت میں غرق رہتے ہیں۔
واللہ اعلم
1۔
کاہن وہ ہوتا ہے جو کائنات کے اسرار و رموز کا دعویٰ کرے اور مستقبل کی خبریں دے۔
جب سے رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں آسمانوں پر سخت پہرا بٹھا دیاگیا ہے۔
اس بنا پر کہانت باطل ہے۔
2۔
اس حدیث میں ان فنکاروں کی شعبدہ بازی سے پردہ اٹھاگیا گیا ہے جوآئے روز ضعیف الاعتقاد لوگوں کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں، نیز اس میں قضا و قدر کے فرشتوں کا ذکر ہے جو کائنات میں اوامر الٰہیہ کو نافذ کرنے کے لیے زمین پر اترتے ہیں۔
اس سے صرف فرشتوں کا وجود ثابت کرنا مقصود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہنوں کے متعلق فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی باتیں قابل اعتماد نہیں ہیں جیسا کہ ہم کسی بدکردار شخص کو کہتے ہیں کہ وہ انسان نہیں ہے۔
اس کے انسان ہونے کی نفی سے مراد ذات کی نفی نہیں بلکہ کردار کی نفی ہے، یعنی اس میں انسانیت نہیں ہے۔
اسی طرح ہم اس شخص کو کہتے ہیں جس نے مضبوط کام نہ کیا ہو، تو نے کچھ نہیں کیا، حالانکہ اس نے کچھ نہ کچھ تو کیا ہوتا ہے۔
کام کی نفی سے مراد قابل اعتماد اور مضبوط کام کی نفی ہے۔
واللہ أعلم
1۔
کاہن زمانہ مستقبل کی خبریں دینے کا دعوی کرتے ہیں اور غیب جاننے کے مدعی ہوتے ہیں حدیث میں اس کی نفی مقصود ہے۔
اس حدیث کی عنوان سے مناسبت اس طرح ہے کہ کاہن کبھی شیطان نے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا کلام اڑا لیتا ہے لیکن اس کا بیان کرنا یعنی اسے تلاوت کرنا منافق کی طرح بہت برا ہے۔
اسی طرح شیاطین جب اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر کاہن کے کان میں ڈالتے ہیں تو ان کا کردار انتہائی گھناؤنا ہوتا ہے جبکہ فرشتوں کی تلاوت بہت اچھی اور قابل تعریف ہے اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت بندوں کا فعل ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور تلاوت قرآن سے مختلف ہے۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ منافق کی تلاوت بھی مومن کی تلاوت کی طرح ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے دونوں میں بہت فرق ہے حالانکہ متلو یعنی قرآن کریم تو ایک ہے۔
اگر تلاوت اور متلو، یعنی قرآن پاک ایک ہوتا تو اس قدر فرق نہ ہوتا۔
اسی طرح کاہن کا معاملہ ہے کہ شیاطین فرشتے سے اللہ تعالیٰ کا کلام چھین کر اسے سناتے ہیں اب فرشتے کے پڑھنے میں بہت فرق ہے اس اعتبار سے بھی تلاوت اور قرآن دو مختلف حقیقتیں ہیں۔
(فتح الباري: 668/13، 669)
ہم اس بات کو ذرا آگے بڑھاتے ہیں کہ مذکورہ فرق اس امر کی دلیل ہے کہ تلاوت کرنا ان کا ایک عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔