صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ مَسْحِ الرَّاقِي الْوَجَعَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: باب: بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بَعْضَهُمْ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ ، فَحَدَّثَنِي ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ .´ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے مسلم بن ابوالصبیح نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے گھر کے ) بعض لوگوں پر دم کرتے وقت اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے ( اور یہ دعا پڑھتے تھے ) «أذهب الباس رب الناس ، واشف أنت الشافي ، لا شفاء إلا شفاؤك ، شفاء لا يغادر سقما» ” تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے رب ! اور شفاء دے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے ، شفاء وہی ہے جو تیری طرف سے ہو ایسی شفاء کہ بیماری ذرا بھی باقی نہ رہ جائے ۔ “ ( سفیان نے کہا کہ ) پھر میں نے یہ منصور سے بیان کیا تو انہوں نے مجھ سے ابراہیم نخعی سے بیان کیا ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس ہی کی طرح بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعض ہاتھوں میں اللہ پاک یہ اثر رکھ دیتا ہے کہ وہ دم کریں یا کوئی نسخہ لکھ کردیں اللہ ان کے ذریعہ سے شفا دیتا ہے ہر حکیم ڈاکٹر وید کو یہ خوبی نہیں ملتی الا ماشاءاللہ۔
(1)
دم کے آداب یہ ہیں کہ دم کرنے والا اپنا دایاں ہاتھ متاثرہ جگہ پر پھیرے تاکہ دائیں ہاتھ کی برکت حاصل ہو۔
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دایاں ہاتھ نیک شگون کے طور پر پھیرا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری یا تکلیف کو دور کر دے۔
(فتح الباری: 10/255) (2)
دست شفا کی اصطلاح بھی اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔
بعض ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ شفا رکھ دیتا ہے کہ وہ دم کریں یا کوئی نسخہ لکھ کر دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے شفا عنایت فرما دیتا ہے۔
واللہ المستعان
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیمار کے لیے شفایابی کی دعا کرنی چاہیے جبکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری گناہوں کا کفارہ اور ثواب کا ذریعہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا ایک عبادت ہے جو کفارے اور ثواب کے منافی نہیں ہے کیونکہ ثواب اور کفارہ تو مرض کے آغاز ہی میں حاصل ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ صبر کا مظاہرہ کرے۔
دعا کرنے والا دو قسم کی حسنات (نیکیاں)
کماتا ہے: یا تو اسے مقصود، یعنی شفا مل جاتی ہے یا اس کے عوض گناہوں کا کفارہ اور ثواب مل جاتا ہے۔
یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے متعلق ہیں۔
(فتح الباري: 163/10)
جب اس کے سوا کوئی درد دکھ تکلیف دفع نہیں کرسکتا تو اس کے سوا کسی بت دیوتا یا پیر کو پکارنا محض نادانی وحماقت ہے۔
اس سے قبوریوں کو سبق لینا چاہیے جو دن رات اہل قبور سے استدعا کرتے رہتے ہیں اور مزارات بزرگوں کو قبلہ حاجات سمجھے بیٹھے ہیں۔
حالانکہ خود قرآن پاک کا بیان ہے ﴿ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولواجتمعوا لہ﴾ (الحج: 73)
حاجات کے لیے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو یہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اس آیت میں سارے دیوی دیوتا پیروں ولیوں کے متعلق کہا گیا ہے جن کو لوگ پوجتے ہیں۔
(1)
ان احادیث میں مسنون دم کی وضاحت ہے۔
اس سے شرک کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی مصیبتیں، دکھ درد اور پریشانیاں دور نہیں کر سکتا۔
قرآن کریم میں بھی یہی تعلیم دی گئی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دوسرا اسے دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہیں خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔
وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کر دے۔
وہ بڑی مغفرت والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
‘‘ (یونس: 10/107) (2)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی پہلی حدیث میں ''يُعَوِذُ" کے الفاظ تھے، امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسری حدیث لا کر وضاحت فرمائی ہے کہ اس کے معنی دم کرنا ہیں تاکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی طرح یہ ثابت ہو کہ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دم ہے۔
(فتح الباری: 10/256)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے «أذهب الباس رب الناس. واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ” اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے “ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری سخت ہو گئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1619]
فوائد و مسائل:
(1)
دعا کے ساتھ اللہ کی پناہ حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیماری سے حفاظت یا نجات کے لئے ان الفاظ کے ساتھ اللہ سے دعا فرمایا کرتے تھے۔
(2)
بیماری کے موقع پر مسنون الفاظ کے ساتھ دعا اور دم کرنا چاہیے تاکہ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ شفا عطا فرمائے۔
(3)
مشکلات کو حل کرنے اور بیماری سے شفا دینے کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
خود نبی کریمﷺ نے بھی اللہ ہی سے شفا مانگی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا۔
﴿وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ﴾ (الشعراء۔ 80، 26)
’’اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو وہی مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔‘‘
اس لئے صحت وعافیت کا سوال صرف اللہ ہی سے کرنا چاہیے۔
(4) (الرفیق الاعلیٰ)
سے مراد انبیاء واولیاء ہیں جو نبی کریمﷺ سے پہلے ر حلت فرما کر جنت میں پہنچ گئے جیسے کہ اگلی حدیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
(5)
رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ کو موت کی تمنا قرار نہیں دینا چاہیے۔
بلکہ یہ اللہ کے فیصلے پر رضامندی (رضا بالقضا)
کا اظہار ہے موت کی تمنا اس وقت منع ہے۔
جب اس کا سبب دنیا کی مشکلات سے پریشانی ہو۔
شہادت کی تمنا بھی ممنوع نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ” اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3520]
فوائد و مسائل:
(1)
مریض کی عیادت سنت نبوی ﷺ ہے۔
(2)
عیادت کے وقت مریض کو تسلی دینے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے دعا کرنا بھی مسنون ہے۔
(3)
شفا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
لہٰذا دعا بھی اسی سے کرنی چاہیے۔