صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ النَّفْثِ فِي الرُّقْيَةِ: باب: دعا پڑھ کر مریض پر پھونک مارنا اس طرح کہ منہ سے ذرا سا تھوک بھی نکلے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ ، ب قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، ، جَمِيعًا ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ ، قَالَ يُونُسُ : كُنْتُ أَرَى ابْنَ شِهَابٍ ، يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ .´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید ایلی نے ، ان سے ابن شہاب زہری نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام فرمانے کے لیے لیٹتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر «قل هو الله أحد» اور «قل أعوذ برب الناس» اور «قل أعوذ برب الفلق» سب پڑھ کر دم کرتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرہ پر اور جسم کے جس حصہ تک ہاتھ پہنچ پاتا پھیرتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر جب آپ بیمار ہوتے تو آپ مجھے اسی طرح کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ یونس نے بیان کیا کہ میں نے ابن شہاب کو بھی دیکھا کہ وہ جب اپنے بستر پر لیٹتے اسی طرح ان کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
یہ اس بیماری کا واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔
شروع میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی دم کرتے تھے، جب بیماری نے شدت اختیار کر لی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، وہ آپ کو دم کرتی تھیں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے لفظ "نفث" سے عنوان ثابت کیا ہے کہ معوذات پڑھ کر اس طرح اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے کہ اس میں تھوڑا سا لعاب دہن بھی شامل ہو جاتا۔
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ دم کرتے وقت نفث نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ موقف درست نہیں جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ خیبر کے دن حضرت سلمہ بن اکوع کو چوٹ لگی تو لوگ کہنے لگے "سلمہ تو گیا" مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے مجھ پر تین بار پھونک ماری جس میں ہلکا لعاب دہن بھی تھا، اس کے بعد اب تک مجھے اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
(صحیح البخاری، المغازی، حدیث: 4206)
آپ نے فرمایا کہہ! پھر ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ پڑھی آپ نے پھر یہی فرمایا تو ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾ پڑھی تو آپ نے فرمایا اسی طرح پناہ مانگا کر ان جیسی پناہ مانگنے کی اورسورتیں نہیں ہیں۔
اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پہلے ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر معوذات پڑھتے تھے۔
حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے کیونکہ پڑھنے کے بعد پھونک مارنے سے برکت کی امید کی جا سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ اس سے مقصود جادو گروں کی مخالفت ہو کیونکہ وہ پڑھ کر پھونک مارتے ہیں اور آپ نے پڑھنے سے پہلے پھونک ماری۔
(عمدة القاري: 559/13)
ہمارے رجحان کے مطابق دم کا طریقہ یہ ہے کہ معوذات پڑھ کر پھونک ماری جائے تا کہ نفحات طیبہ سے شفا کی امید کی جا سکے۔
واللہ اعلم۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد» ، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ۱؎ پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3402]
وضاحت:
1؎:
انہیں معوذات کہا جاتا ہے، کیوں کہ ان کے ذریعہ سے اللہ رب العالمین کے حضور پناہ کی درخواست کی جاتی ہے، معلوم ہوا کہ سوتے وقت ان سورتوں کو پڑھنا چاہیے تاکہ سوتے میں اللہ کی پناہ حاصل ہو جائے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں «قل هو الله أحد» «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5056]
سوتے وقت آخری تین سورتوں کا دم بہت سی ظاہری اور باطنی بیماریوں بالخصوص نظر بد جادو اور شیطانی اثرات کا علاج ہے۔
بشرط یہ کہ انسان ایمان ویقین کےساتھ پابندی سے عمل کرے۔