صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ الرُّقَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ: باب: سورۃ الفاتحہ سے دم کرنا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ ، فَقَالُوا : هَلْ مَعَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رَاقٍ ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا ، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ ، وَيَتْفِلُ ، فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّاءِ ، فَقَالُوا : لَا نَأْخُذُهُ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ فَضَحِكَ ، وَقَالَ : وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ " .´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ابوبشر نے ، ان سے ابوالمتوکل نے ، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے ۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے ۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو ۔ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظور کر لیں پھر ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ) سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے ۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا ۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے ، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ بھی معلوم ہواکہ جو مسئلہ معلوم نہ ہو وہ جاننے والوں سے معلوم کر لینا ضروری ہے بلکہ تحقیق کرنا لازم ہے اوراندھی تقلید بالکل نا جائز ہے۔
(1)
سورۂ فاتحہ اصول دین اور اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے۔
اس میں آخرت کا اثبات، توحید کا ذکر اور بندوں کی محتاجی کا بیان ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں، نیز اس میں ایک بہترین دعا کا بیان ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی دعا کرتا ہے، پھر اس فاتحہ میں مخلوق کی قسموں کا ذکر ہے: کچھ ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا کیونکہ انہوں نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق عمل کیا۔
کچھ ایسے ہیں جنہوں نے حق کو پہچان کر اس کے مطابق عمل نہ کیا ان پر اللہ کا غضب ہوا اور کچھ گمراہ ہیں جنہوں نے حق کو پہچانا ہی نہیں۔
(2)
اس سورت میں تقدیر، شریعت، آخرت، توبہ، تزکیۂ نفس اور اصلاح قلب کا ذکر ہے۔
اس بنا پر یہ سورت اس قابل ہے کہ اس کے ذریعے سے ہر بیماری کے لیے اللہ تعالیٰ سے شفا طلب کی جائے۔
(فتح الباری: 10/244)
بہرحال معوذات کے علاوہ سورۂ فاتحہ سے بھی دم کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں یہ اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔
ہمارا تجربہ ہے کہ سورۂ فاتحہ سے دم کرنا ہر بیماری سے شفا کا ذریعہ ہے۔
واللہ المستعان