صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الطَّاعُونِ: باب: طاعون کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ فَلَمَّا كَانَ بِسَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّأْمِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبداللہ بن عامر نے کہ` عمر رضی اللہ عنہ شام کے لیے روانہ ہوئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے ۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم وبا کے متعلق سنو کہ وہ کسی جگہ ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے بھی مت بھاگو ( وبا میں طاعون ، ہیضہ وغیرہ سب داخل ہیں ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی تو انہوں نے واپسی کا پختہ پروگرام بنا لیا۔
مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو واپس لوٹنے پر ندامت ہوئی اور آپ یوں دعا کیا کرتے تھے: ’’اے اللہ! میرا مقام سرغ سے واپس آنا معاف کر دے۔
‘‘ (المصنف لابن ابی شیبۃ: 7/28، رقم: 33837)
ان کا اظہار ندامت اس لیے تھا کہ وہ ایک بہت بڑی مہم کے لیے نکلے تھے، جب منزل مقصود کے قریب پہنچ گئے تو واپس آ گئے، وہاں قریب کسی مقام پر طاعون ختم ہونے کا انتظار کر لیتے پھر اپنی مہم پر روانہ ہو جاتے، وہ طاعون جلدی ہی ختم ہو گیا۔
(2)
شاید انہیں جب جلدی ختم ہونے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس پر اظہار ندامت کیا ہو کیونکہ واپس لوٹنے میں جس قدر مشقت اور ذہنی کوفت برداشت کرنا پڑی وہ انتظار کرنے میں نہ ہوتی، نیز حدیث وہاں جانے سے ممانعت کے لیے تھی، وہاں سے واپس آنے کے متعلق نہ تھی۔
(فتح الباری: 10/230)
واللہ اعلم
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا سمعتم به بارض فلا تقدموا عليه وإذا وقع بارض وانتم بها، فلا تخرجوا فرارا منه . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں کسی علاقے میں اس (وبا) کے وقوع کا پتا چلے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر اس علاقے میں یہ (وبا) پھیل جائے جس میں تم موجود ہو تو اس سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے نہ بھاگو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 433]
تفقه:
➊ سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے واپس لوٹے تھے۔ [صحيح بخاري: 6973 و صحيح مسلم: 2219/100]
یہ اتباع سنت کی اعلیٰ مثال ہے۔
➋ خبر واحد حجت ہے بشرطیکہ خبر بیان کرنے والا ثقہ و صدوق ہو۔
➌ اگر وباء والے علاقے میں کوئی شخص اس وباء کا شکار ہو جائے تو عین ممکن ہے کہ اس شخص کا عقیدہ خراب ہوجائے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ وباء زدہ علاقے میں جانے اور وہاں سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔
➍ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام کی محبت بے مثال ہے۔