حدیث نمبر: 5724
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ : أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ قَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا أَخَذَتِ الْمَاءَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا ، قَالَتْ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْمُرُنَا أَنْ نَبْرُدَهَا بِالْمَاءِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا کہ` اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے ہاں جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تھی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور اس کے گریبان میں پانی ڈالتیں وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الطب / حدیث: 5724
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2211 | سنن ابن ماجه: 3474

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5724. سیدہ اسماء بنت ابی بکر‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ان جے پاس جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور پانی لے کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5724]
حدیث حاشیہ: ایک روایت میں ہے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو مراد وہ بخار ہے جو صفراءکے جوش سے ہو اس میں ٹھنڈے پانی سے زیادہ نہانا یا ہاتھ پاؤں کا دھونا بھی مفید ہے۔
اسے آج کی ڈاکٹری نے بھی تسلیم کیا ہے شدید بخار میں برف کا استعمال بھی اسی قبیل سے ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5724 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5724. سیدہ اسماء بنت ابی بکر‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ان جے پاس جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور پانی لے کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5724]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث بیان کی ہے، تاکہ پانی کے استعمال کی کیفیت بیان کی جائے کہ بخار میں مبتلا آدمی کے گریبان میں پانی ڈال دیا جائے تاکہ اس سے جسم کو ٹھنڈک پہنچے۔
(2)
دراصل بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرنے میں علاقے، موسم اور مریض کے حالات کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
صفراوی بخار میں تو واقعی ٹھنڈے پانی والا نسخہ کیمیا اثر ہے۔
بہرحال نہانا اور ہاتھ پاؤں دھونا بھی مفید ہے، چنانچہ جدید طب نے بھی اس کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5724 سے ماخوذ ہے۔