حدیث نمبر: 5723
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " ، قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ : اكْشِفْ عَنَّا الرِّجْزَ .
مولانا داود راز

´مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے پس اس کی گرمی کو پانی سے بجھاؤ ۔ “ نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( کو جب بخار آتا تو ) یوں دعا کرتے کہ ” اللہ ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الطب / حدیث: 5723
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3264 | صحيح مسلم: 2209 | سنن ابن ماجه: 3472 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 431

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5723. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ سے ہے لہذا تم اس (بھاپ) کو پانی سے بجھاؤ۔ نافع سے بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو جب بخار آتا تو یوں دعا کرتے: (اے اللہ!) ہم سے اس عذاب کو دور کر دے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5723]
حدیث حاشیہ: حرارت کی بنا پر دوزخ کی بھاپ سے تشبیہ دی گئی ہے وصدق رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم بخار پر صبر کرنا ہی ثواب ہے اور تندرستی کی دعا اتنا ہی درست ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت دعا فرماتے تھے۔
''اَللھُم إِني أَسئلُكَ العفوَ و العافیةَ'' اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کے لیے سوال کرتا ہوں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5723 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5723. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ سے ہے لہذا تم اس (بھاپ) کو پانی سے بجھاؤ۔ نافع سے بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو جب بخار آتا تو یوں دعا کرتے: (اے اللہ!) ہم سے اس عذاب کو دور کر دے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5723]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں پانی کے استعمال کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا۔
اس کے استعمال کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، مثلاً: پانی نوش کرنا یا جسم پر پانی کی پٹیاں رکھنا، برف لگانا یا غسل کرنا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیات طیبہ کے آخری ایام میں غسل فرمایا تھا تاکہ حرارت کچھ کم ہو جائے تو جماعت سے نماز ادا کر سکیں۔
گرم علاقوں میں بخار عام طور پر گرمی کی شدت سے ہوتا ہے، لہذا اس کا علاج پانی سے مناسب ہے۔
ایک روایت میں مائے زمزم کا ذکر ہے۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3261)
لیکن یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ مکہ مکرمہ میں مائے زمزم بکثرت دستیاب تھا اور مذکورہ واقعہ بھی مکہ مکرمہ کا ہے۔
ہر قسم کا پانی بخار کے لیے مفید ہے۔
ڈاکٹر حضرات بھی اس سلسلے میں برف کی پٹیوں کا مشورہ دیتے ہیں، بہرحال ایسا کرنے سے بخار کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5723 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3264 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3264. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بخار، دوزخ کے جوش و خروش کی وجہ سے آتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3264]
حدیث حاشیہ:

صفراوی بخار میں ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا مفید ہے۔
آج کل شدید بخارکی حالت میں ڈاکٹر حضرات مریض کے سر پر برف سے ٹھنڈی کی ہوئی پٹیاں رکھنےکا مشورہ دیتے ہیں اور مریض کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پانی سے دھونے کی تلقین کرتے ہیں لیکن یہ علاج ہر قسم کے بخار کا نہیں بلکہ گرمی کے بخار میں ایسا کرنا بہتر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اہل حجاز اور اس کے قرب و جوار میں رہنے والوں کو یہ علاج بتایا ہے کیونکہ انھیں بکثرت گرمی سے بخار ہوتا تھا لہٰذا ایسے مریض کے لیے ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا مفید ہے۔

ان احادیث میں بخار کو ٹھنڈا کرنے کا طریقہ بیان نہیں ہوا البتہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس جب بخار کی مریضہ پیش کی جاتی تو وہ اس کے سینے پر پانی ڈالا کرتی تھیں۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5224)
چونکہ یہ خاتون حضرت عائشہ ؓ کی بڑی ہمیشر ہیں اور اکثر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جایا کرتی تھیں اس بنا پر وہ اسے دوسروں کی نسبت زیادہ جانتی ہیں۔
اس کے متعلق دیگر تفاصیل کتاب الطب میں ذکر کی جائیں گی۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3264 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2209 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بخار جہنم کے بھاپ (جوش) سے ہے، اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5751]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بخار اور ہر تکلیف کا منبع اور سرچشمہ جہنم ہے اور ہر لذت و فرحت کا مصدر اور سرچشمہ جنت ہے، اس طرح گویا ایک مؤمن کے لیے، دنیا میں یہ گناہوں کا کفارہ ہے، جس کے سبب وہ عذاب جہنم سے بچ جائے گا اور برے لوگوں کے لیے یہ الم اور دکھ درد کا باعث ہے اور بخار کے وقت، نہانا، یا پانی میں تیرنا، بخار کی بہت سی قسموں میں قدیم و جدید اطباء کے نزدیک انتہائی سود مند ہے اور آج کل بھی گرمی کے موسم میں جب بخار انتہائی درجہ تیز ہو تو ڈاکٹر اس کے سر پر برف کی پٹی لگواتے ہیں اور تمام جسم کو برف کے پانی میں تولیہ بھگو کر صاف کرواتے ہیں، لیکن یہ کام کسی ماہر حکیم یا ڈاکٹر کے مشورہ سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ہر جگہ، یا ہر موسم میں یا ہر شخص کا یا ہر بخار کا علاج نہیں ہے، بلکہ ایک ہی شخص کا علاج، عمر، موسم اور خوراک کے بدلنے سے بدل جاتا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے (تکملة ج 4 ص 343-344)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2209 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 431 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´بخار کو پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرنا چاہئے`
«. . . 254- وبه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الحمى من فيح جهنم، فأطفؤها بالماء، وكان ابن عمر يقول: اللهم أذهب عنا الرجز. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کے سانس میں سے ہے، لہٰذا اسے پانی کے ساتھ ٹھندا کرو، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہم سے عذاب دور فرما . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 431]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 5723، ومسلم 220/79، من حديث مالك به المرفوع فقط ورواه الجوهري 704 عن ابن وهب عن مالك نحوه]
تفقه:
➊ کچھ بخار (مثلاً ٹائفائڈ) ایسے ہوتے ہیں کہ اگر جسم کو پانی یا برف وغیرہ کے ساتھ ٹھندا کیا جائے تو فائدہ ہوتا ہے۔
➋ ہر وقت اللہ ہی سے دعا کرنی چاہئے۔
➌ مومن پر دنیا میں مصیبتوں اور آزمائشوں کا آنا اس کے درجات کی بلندی کا سبب ہے بشرطیکہ وہ صبر و شکر کا مظاہرہ کرے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 254 سے ماخوذ ہے۔