صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ الْمَنُّ شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ: باب: «من» (کھنبی) آنکھ کے لیے شفاء ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ عَمْرُو بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ شُعْبَةُ : لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَكَمُ لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ .´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے کہا کہ میں نے عمرو بن حریث سے سنا ، کہا کہ میں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھنبی «من» میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ہے ۔ اسی سند سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے حکم بن عتیبہ نے خبر دی ، انہیں حسن بن عبداللہ عرنی نے ، انہیں عمرو بن حریث نے اور انہیں سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان کی ، شعبہ نے کہا کہ جب حکم نے بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کر دی تو پھر عبدالملک بن عمیر کی روایت پر مجھ کو اعتماد ہو گیا کیونکہ عبدالملک کا حافظہ آخر میں بگڑ گیا تھا شعبہ کو صرف اس کی روایت پر بھروسہ نہ رہا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مَن، ایک قدرتی خوراک تھی جو بنی اسرائیل کو حاصل ہوتی تھی جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔
کھمبی کو من اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ بھی بلا مشقت حاصل ہو جاتی ہے۔
اس کی کئی ایک قسمیں ہیں۔
آج کل اسے خود بھی اُگایا جاتا ہے جو غذا میں استعمال ہوتی ہے۔
کھمبی کا پانی آنکھوں کی تکلیف کے لیے بہت مفید ہے، البتہ اطباء کا اس امر میں اختلاف ہے کہ اسے دوسری دوا کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا چاہیے، جیسے اثمد سرمے میں کھمبی کا پانی ملا کر اسے گوندھ لیا جائے پھر اسے پیس کر آنکھ میں لگایا جائے، یا اس کا پانی نکال کر صرف اسے استعمال کیا جائے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تین یا پانچ یا سات کھمبیاں لیں، پھر ان کا پانی نچوڑ کر ایک شیشی میں محفوظ کر لیا، میری ایک لونڈی آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوئی، اس نے استعمال کیا تو وہ صحت یاب ہو گئی۔
(جامع الترمذي، الطب، حدیث: 2069)
1۔
اس حدیث میں کھمبی کو "مَن" کی قسم بتایا گیا ہے کیونکہ یہ خود بخود پیدا ہوتی ہے، اس کے لیے کسی بیج وکھاد یا پانی کی کوئی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی جیسا کہ بنی اسرائیل کو من وسلویٰ بغیرمحنت ومشقت سے ملتا تھا۔
یہ کھمبی عام طور پر سردی کے موسم میں اُگتی ہے۔
اس کا پانی آنکھ کی ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔
2۔
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اسے دوسری ادویات کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو سود مند ہے، صرف پانی آنکھ کو نقصان دیتا ہے لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ آنکھ اگرحرارت یا برودت کی وجہ سے خراب ہوتوصرف پانی استعمال کرنے سے آرام آجاتا ہے۔
ہم اس کے متعلق اپنی گزارشات حدیث: 4478 کے فوائد میں ذکر کرآئے ہیں اور کچھ گزارشات کتاب الطب میں ذکر ہوں گی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
«. . . عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ . . .»
”. . . سعید بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”«كمأة» (یعنی کھنبی، سانپ کی چھتری) بھی «من» کی قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کی دوا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ: 4478]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 4478 کا باب: «بَابُ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ}:»
امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں ان اشیاء کا ذکر فرمایا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے نازل فرمایا تھا، مگر تحت الباب میں جن اشیاء کا ذکر ہے اس میں ایک «من» ہے اور دوسرا «الكماة» لہٰذا ترجمتہ الباب پر اعتراض کرتے ہوئے علامہ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لا وجه لادخال هذا الحديث هنا، قال: لأنه ليس المراد فى الحديث أنها نوع من المن لمنزل على بني اسرائيل فان ذاك شيئي كان يسقط عليهم كالتر نجبيل» [فتح الباري لابن حجر: 140/8]
”یعنی یہ روایت ترجمۃ الباب میں مناسبت نہیں رکھتی، کیونکہ ترجمۃ الباب میں اس «من» کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے آسمان سے نازل فرمایا تھا، جبکہ «الكماة» سانپ کی چھتری زمین پر آ گئی ہے۔“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام خطابی رحمہ اللہ کے اعتراض کو نقل کرنے کے بعد واضح طور پر فرمایا کہ ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت موجود ہے، دراصل علامہ خطابی رحمہ االلہ کی نظر صحیح مسلم کی حدیث تک نہیں پہنچتی جس کی طرف امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا ہے، حدیث میں واضح طور پر جو الفاظ ہیں وہ ترجمۃ الباب سے مناسبت رکھتے ہیں، امام مسلم رحمہ اللہ صحیح مسلم کتاب الاشربہ میں حدیث کا ذکر فرماتے ہیں کہ: «الكماة من المن الذى انزل الله تبارك وتعالٰي علٰي بني اسرائيل وماؤها شفاء للعين.» [صحيح مسلم: 5347]
صحیح مسلم کی اس حدیث نے واضح کیا کہ جس طرح «من» اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا اسی کی مصداق «الكماة» بھی ہے، لہٰذا اس حدیث پر اگر امام خطابی رحمہ اللہ کی نظر پڑتی تو آپ یہ اعتراض نہ کرتے، لہٰذا امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس میں «الكماة» کو بھی «من» کی طرح نازل شدہ قرار دیا گیا ہے، اور اگر مزید غور کیا جائے تو ترجمہ الباب کی حدیث سے مناسبت لفظ «من المن» سے بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الكماة» کو «من» سے تعبیر کیا، یعنی جس طرح «من» باآسانی بنی اسرائیل کے لیے میسر تھا بیعن اسی طرح «الكماة» بھی اسی کے ساتھ باآسانی میسر تھی، لہٰذا باب اور حدیث میں مناسبت اس نکتہ کے ساتھ بھی ہے، صاحب منار القاری الشیخ حمزۃ محمد قاسم ترجمتہ الباب میں تطبیق دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: «دل الحديث على أن الكماة من النعم التى انعم الله بها على هذه الأمة...... والمطابقة فى قوله ”من المن“.» [منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري: 33/5]
حدیث اس پر دال ہے کہ «الكماة» بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت میں سے ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس امت پر انعام کیا۔۔۔۔۔۔۔ اور مطابقت ترجمہ الباب سے حدیث کے لفظ «من المن» میں ہے۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الكماة» چھتری والے سانپ کو «من» میں داخل فرمایا ہے، پس یہاں بھی ترجمۃ الباب میں حدیث کی مطابقت بنتی ہے۔
حدیث میں من کا ذکر ہے یہی حدیث اور باب میں مطابقت ہے۔
1۔
علامہ خطابی ؒ کہتے ہیں: اس حدیث کی مذکورہ عنوان سے کوئی مناسب نہیں لہٰذا امام بخاری ؒ کو اسے یہاں بیان نہیں کرنا چاہیے تھے کیونکہ حدیث میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کھمبی اس مَن کی قسم ہے جوبنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا۔
(إعلام الحدیث: 99/3)
لیکن ان کا یہ اعتراض برمحل نہیں کیونکہ بعض روایات میں وضاحت ہے: کھمبی مَن کی قسم ہے جو بنی اسرائیل پر اتارا گیا تھا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5345۔
(2049)
2۔
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کھمبی کا خالص پانی آنکھوں کی تمام بیماریوں کے لیے مفید ہے اگر سرمے میں ملا کر استعمال کیا جائے تو اس کا فائدہ دو چند ہو جاتا۔
شیخ الکمال بن عبد اللہ دمشقی جن کی آنکھوں کا نور ختم ہو چکا تھا جب انھوں نے کھمبی کا پانی بطور سرمہ استعمال کیا تو ان کا نور بصارت واپس آگیا۔
(شرح صحیح مسلم النووي، الأشربة، باب فضل الکماة ومداواة العین بها)
یہ خاصیت اس بنا پر ہے کہ اس کی حلت میں ذرا بھر بھی شبہ نہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خالص حلال چیز کا استعمال بینائی کے لیے بہت مفید ہے اور حرام اشیاء کا استعمال نظر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
(فتح الباري: 164/8)
3۔
یاد رہے کہ کھمبی ایک خود رد بوٹی ہے جو موسم برسات میں زمین سے اگتی ہےاسے من سے تشبیہ دی گئی کیونکہ جس طرح من بغیر مشقت کے حاصل ہوتا تھا اس طرح کھمبی بھی بغیر محنت کے حاصل ہو جاتی ہےنیز جو من بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا وہ اصل الاصول ہے اسی مادے سے اب یہ کھمبی زمین سے اگتی ہے جو بہت لذیذ اور از حد مفید ہے۔
۔