صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ الْحَجْمِ مِنَ الشَّقِيقَةِ وَالصُّدَاعِ: باب: آدھے سر کے درد یا پورے سر کے درد میں پچھنا لگوانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5700
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، احْتَجَم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ لُحْيُ جَمَلٍ .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن حسان نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں پچھنا لگوایا ( یہ پچھنا آپ نے سر کے ) درد کی وجہ سے لگوایا تھا جو لحی جمل نامی پانی کے گھاٹ پر آپ کو ہو گیا تھا ۔