حدیث نمبر: 5690
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ ، وَتَقُولُ : هُوَ الْبَغِيضُ النَّافِعُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` وہ تلبینہ پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ وہ ( مریض کو ) ناپسند ہوتا ہے لیکن وہ اس کو فائدہ دیتا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الطب / حدیث: 5690
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5690. سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ وہ تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ کھانے میں پسندیدہ نہیں ہوتا لیکن وہ فائدہ مند ضرور ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5690]
حدیث حاشیہ: تلبینہ میٹھا دلیہ جو روا گھی میٹھا ملا کر پکایا جائے جسے حریرہ بھی کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5690 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5690. سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ وہ تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ کھانے میں پسندیدہ نہیں ہوتا لیکن وہ فائدہ مند ضرور ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5690]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’تم ناپسندیدہ اور مفید چیز تلبینہ کو اپناؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو تلبینہ کی ہنڈیا آگ پر چڑھی رہتی حتی کہ مریض کا معاملہ ایک طرف لگ جاتا، یعنی وہ شفایاب ہو جاتا وہ اللہ کو پیارا ہو جاتا۔
(مسند أحمد: 138/6) (2)
حساء اور تلبینہ دونوں ایک ہیں۔
یہ زود ہضم ہوتا ہے اور اس کے استعمال کرنے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5690 سے ماخوذ ہے۔