صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ الدَّوَاءِ بِالْعَسَلِ: باب: شہد کے ذریعہ علاج کرنا اور فضائل شہد میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ أَوْ يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ : فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ ، تُوَافِقُ الدَّاءَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا ، ان سے عاصم بن عمیر بن قتادہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری ( ان ) دواؤں میں بھلائی ہے ۔ تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
دوا کے موافق ہونے میں یہ اشارہ ہے کہ آگ سے داغنا بھی اس وقت مشروع ہے جب وہ مرض کے موافق ہو، لہذا اسے بھی تحقیق کے بعد لگوانا چاہیے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داغنے کو پسند نہیں کرتے تھے، اس میں یہ اشارہ ہے کہ داغنے کا علاج اس وقت کیا جائے جب اس کے بغیر کوئی دوا مؤثر نہ ہو اور دوسری کسی بھی دوا سے آرام نہ آتا ہو کیونکہ آگ سے داغ دینے میں مریض کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد پینے کو شفا قرار دیا ہے، عنوان سے یہی الفاظ مطابقت رکھتے ہیں۔
واللہ أعلم
آگ سے داغنے کے متعلق نہی تنزیہی ہے کیونکہ دوسری میں بعض صحابہ کا یہ علاج مذکور ہے (دیکھو حدیث ص۔
671)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سینگی لگوانا ایک بہترین علاج ہے۔
یہ سر درد کے لیے بھی بہت مفید ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درد شقیقہ کا عارضہ تھا۔
آپ نے ایک مرتبہ مقام خیبر میں زہریلے کھانے کا ایک لقمہ منہ میں ڈالا تھا، اس وجہ سے آپ کو درد شقیقہ ہوتا تھا۔
اس کا علاج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر کیا تھا۔
(عمدة القاري: 687/14) (2)
مجبوری کی حالت میں آگ سے داغ دے کر علاج کرنا جائز ہے۔
آپ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو داغ دیا تھا۔
اس بنا پر آپ کا اس سے منع کرنا نہی تنزیہی پر محمول ہے۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث میں انتہائی اختصار ہے کیونکہ ایک تو اس میں شہد کا ذکر نہیں ہے دوسرے ان دواؤں کے مرض سے موافق ہونے کا بیان نہیں جبکہ یہ دونوں حدیث میں ہیں۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5683) (2)
اس سے علاج بذریعۂ آگ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں شفا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
اگرچہ آپ نے اس طریقے کو پسند نہیں کیا لیکن ضروری نہیں جسے آپ پسند نہ فرمائیں وہ جائز نہ ہو۔
سانڈے کا گوشت آپ کو پسند نہیں تھا لیکن آپ کے سامنے اسے کھایا گیا، پھر آپ نے چند صحابۂ کرام کا علاج اس طریقے سے کیا ہے، مثلاً: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جب غزوۂ خندق میں زخمی ہو گئے تھے تو آپ نے خود انہیں رگ اکحل پر آگ سے داغ دیا تھا، (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5748 (2208)
لیکن فضیلت اسی میں ہے کہ اس طریقۂ علاج کو اختیار نہ کیا جائے ہاں اگر کوئی دوسرا طریقہ کارگر نہ ہو تو اسے اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس سے شفا کی حتمی امید ہو۔
واللہ أعلم
(1)
محجم: خون چوسنےکاآلہ، سنگی۔
(2)
شرطة: نشترلگانا، سنگی لگانےکےلیے جسم کو پچھنا لگانا۔
(3)
لدغة بنار: آگ کے ذریعے داغ لگانا۔
فوائد ومسائل: امام ابو عبداللہ الماذری نے لکھا ہے کہ بیماریاں چار قسم کی ہیں، دموی، صفرادی، بلغمی اور سوداوی، اگر خون کا غلبہ ہونے کی بنا پر دموی ہیں تو ان کا علاج خون نکالنا ہے اور اگر باقی تین قسم کی ہیں تو اس کا علاج مناسب اسہال ہے، (پیٹ جاری کرنا)
تو نبی اکرم نے شہد کے ذریعہ دست آور اشیاء کی طرف اشارہ فرمایا اور حجامۃ کے ذریعہ، خون نکالنے والی اشیاء کی طرف اور آخری چارہ کار کے طور پر داغ لگانے کا تذکرہ فرمایا اور حافظ ابن قیم نے لکھا ہے، بیماریاں درحقیقت حرارت اور برودت (ٹھنڈک)
کے غلبہ کا نتیجہ ہیں، اگر بیماری گرمی کے غلبہ کی بنا پر ہے تو خون نکالا جائے گا، سینگی کے ذریعہ ہو یا فصدرگ کھول کر، کیونکہ اس طرح زائد مواد نکال کر مزاج کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور اگر بیماری برودت کے سبب ہو تو مزاج کو گرم کرنے کی ضرورت ہے تو شہد یہ کام کرتا ہے اور اگر بارد مواد کو خارج کرنے کی ضرورت ہے تو شہد ایک نرم اور مسہل (دست آور)
ہے اور اگر بیماری پرانی ہو تو آخری علاج داغ کے ذریعہ بیماری کے مواد کو خارج کرنا پڑتا ہے، (تکملہ ج 4 ص 336-337)
بہرحال آپ نے آگ سے داغنے کو پسند نہیں کیا اور امت کو اس کے عام استعمال سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ انتہائی تکلیف دہ علاج ہے اور جسم انسانی کو بدنما بھی بناتا ہے، اس لیے اس کو آخری چارہ گاہ کے طور پر ماہر معالج کے مشورہ سے ہی کام میں لایا جا سکتا ہے، آج کل اس کے لیے بجلی کی لہروں کو استعمال کیا جاتا ہے جس سے آگ کے داغ والے مفاسد پیدا نہیں ہوتے۔