صحيح البخاري
كتاب الطب— کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
بَابُ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً: باب: اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔
حدیث نمبر: 5678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً».مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا ، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5678. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5678]
حدیث حاشیہ: ہاں بڑھاپا اور موت دو ایسی بیماریاں ہیں جن کی کوئی دوا نہیں اتاری گئی۔
لفظ ''انزل'' میں باریک اشارہ اس طرف ہے کہ بارش جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اس سے بھی بہت بیماریوں کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور اس کے دفعیہ کے اثرات بھی نازل ہوتے رہتے ہیں سچ فرمایا ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ (الأنبیاء: 30)
لفظ ''انزل'' میں باریک اشارہ اس طرف ہے کہ بارش جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اس سے بھی بہت بیماریوں کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور اس کے دفعیہ کے اثرات بھی نازل ہوتے رہتے ہیں سچ فرمایا ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ (الأنبیاء: 30)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5678 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5678. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5678]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ تم بیماری کا علاج کرو لیکن حرام چیزوں سے دوا نہ کرو۔
(سنن أبي داود، الطب، حدیث: 3874)
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ ان صوفیوں کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کا موقف ہے کہ انسان اس وقت درجۂ ولایت پر پہنچتا ہے جب اسے بیماری لاحق ہو تو اس کا علاج نہ کرے بلکہ اس بیماری پر خود کو راضی رکھے، حالانکہ علاج کرنا سنت ہے جیسا کہ مذکور حدیث میں صراحت ہے لیکن اس سلسلے میں حرام چیزیں علاج کے لیے استعمال نہ کی جائیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات مریض دوائی کے استعمال سے صحت یاب نہیں ہوتا اس کی وجہ وہاں بیماری کی صحیح تشخیص اور صحیح تجویز، نیز دوا کا فقدان ہوتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر مرض کی دوا ہے۔
جب کوئی دوا، بیماری کے نشانے پر بیٹھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریض تندرست ہو جاتا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5741 (2204) (1)
البتہ جب موت قریب آ جائے یا بڑھاپا دستک دینے لگے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ہے کہ تم بیماری کا علاج کرو لیکن حرام چیزوں سے دوا نہ کرو۔
(سنن أبي داود، الطب، حدیث: 3874)
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ ان صوفیوں کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کا موقف ہے کہ انسان اس وقت درجۂ ولایت پر پہنچتا ہے جب اسے بیماری لاحق ہو تو اس کا علاج نہ کرے بلکہ اس بیماری پر خود کو راضی رکھے، حالانکہ علاج کرنا سنت ہے جیسا کہ مذکور حدیث میں صراحت ہے لیکن اس سلسلے میں حرام چیزیں علاج کے لیے استعمال نہ کی جائیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات مریض دوائی کے استعمال سے صحت یاب نہیں ہوتا اس کی وجہ وہاں بیماری کی صحیح تشخیص اور صحیح تجویز، نیز دوا کا فقدان ہوتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر مرض کی دوا ہے۔
جب کوئی دوا، بیماری کے نشانے پر بیٹھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریض تندرست ہو جاتا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5741 (2204) (1)
البتہ جب موت قریب آ جائے یا بڑھاپا دستک دینے لگے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5678 سے ماخوذ ہے۔