صحيح البخاري
كتاب المرضى— کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں
بَابُ تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ: باب: مریض کا موت کی تمنا کرنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : " دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ سَلَفُوا مَضَوْا وَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ ، وَلَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ ، لَدَعَوْتُ بِهِ ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي هَذَا التُّرَابِ " .´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ` ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کو گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ہم نے ( مال و دولت ) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا اور کوئی محل نہیں پایا ( لگے عمارتیں بنوانے ) اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے انہوں نے کہا مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے مگر اس ( کم بخت ) عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے جہاں تک ہو سکے محفوظ رہنے کی کوشش کرے یہی بہتر ہے۔
(1)
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہم نے دنیا کا اس قدر مال و متاع پایا کہ اس کے رکھنے کی جگہ نہیں ملتی اور مکانات بنانے کے علاوہ اس کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کو عمارت بنانے میں خرچ کرنا مذموم ہے لیکن وہ عمارت جو ذاتی ضرورت تک محدود ہو وہ مذموم نہیں کیونکہ اس کے بغیر تو گزارہ نہیں ہے۔
(2)
اس حدیث میں اپنی موت کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، بہرحال موت کی دعا اور چیز ہے اور اس کی تمنا کرنا اور چیز۔
بہرحال انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی موت کی دعا نہ مانگے، البتہ مصیبت اور درود و تکلیف میں گرفتار انسان موت کی تمنا کر سکتا ہے، تاہم حدیث میں مذکور انداز کو اختیار کرنا ضروری ہے۔
واللہ أعلم
اس حدیث سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ موت کی تمنا کر نامنع ہے۔ صرف اتنی اجازت ہے کہ اگر انسان زندگی کی آزمائشوں میں مبتلا ہو تو اس طرح دعا کر سکتا ہے: «اللـهـم أحـيـنـى كانت الحيوة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب وفات میرے لیے بہتر ہو تو مجھے فوت کر دے۔ " اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مکان تعمیر کرنے میں زیادہ پیسہ صرف کرنا فضول کام ہے، بس مناسب گھر ہونا چاہیے۔ اولاد یا کسی اور پر خرچ کرنا باعث اجر ہے، ان پر انسان کو ہمیشہ خرچ کرتے رہنا چاہیے۔