صحيح البخاري
كتاب المرضى— کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں
بَابُ وَضْعِ الْيَدِ عَلَى الْمَرِيضِ: باب: مریض کے اوپر ہاتھ رکھنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَلْ ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ، فَقُلْتُ : ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ ثُمَّ ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ لَهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا " .´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا ، ان سے حارث بن سوید نے بیان کیا کہ` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم چھوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے تم میں کے دو آدمیوں کے برابر بخار چڑھتا ہے ۔ میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا اجر ملتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی مسلمان کو مرض کی تکلیف یا کوئی اور کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح گراتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کو ہاتھ لگایا تو پتا چلا کہ بہت تیز بخار ہے۔
عنوان سے یہی مطابقت ہے۔
(2)
بہرحال بیماری آنے، مصیبت میں مبتلا ہونے اور آفتوں میں گرفتار ہونے سے انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ انسان صبر و شکر سے کام لے اور زبان پر اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی حرف شکایت نہ لائے۔
اس سے نہ صرف گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ انسان کے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔
یا اللہ میری بھی یہی دعا ہے۔
رَبِّ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ آمین اللھم ألحقني بالرفیق الأعلیٰ برحمتك یا أرحم الراحمین۔
حضرات انبیاء علیہم السلام سخت مصائب و تکالیف سے دوچار ہوئے ہیں کیونکہ مصیبت نعمت کے مقابلے میں ہوتی ہے۔
جس پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں زیادہ ہوں اس پر مصائب بھی زیادہ آتے ہیں۔
جب بیماری سخت ہو جائے تو اجر بھی دو گنا ہو جاتا ہے حتی کہ بندۂ مومن سے بیماری کی وجہ سے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں اور وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے دو آدمیوں جتنا بخار ہوا ہے۔
‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی: پھر آپ کو اجر بھی دو آدمیوں جتنا ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں۔
‘‘ (صحیح البخاري، المرضیٰ، حدیث: 5648، 5667)
(1)
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے بخار کی شدت کا ذکر کیا، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر رضا مندی کا ہی ایک انداز تھا۔
(2)
دراصل حرف شکایت کا تعلق نیت و ارادے سے ہے۔
بہت سے خاموش رہنے والے بیماری آنے کے بعد دل میں کڑھتے رہتے ہیں جو معیوب ہے اور بہت سے زبان سے اظہار کرنے والے دل سے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہیں اور یہ معیوب نہیں ہے۔
بہرحال اس کا دارومدار زبان سے اظہار پر نہیں بلکہ دل کے فعل پر ہے۔
(فتح الباري: 158/10)
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، قَالَ: أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ، قُلْتُ: ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، قَالَ: أَجَلْ ذَلِكَ كَذَلِكَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا . . .»
”. . . عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو شدید بخار تھا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو بہت تیز بخار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں کے دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا یہ اس لیے کہ آپ کا ثواب بھی دوگنا ہے؟ فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کاٹنا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتا ہے اسی طرح اللہ پاک اس تکلیف کو اس (مسلمان) کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المرضى: 5648]
باب اور حدیث میں مناسبت:
ترجمۃ الباب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے جبکہ تحت الباب حدیث میں انبیاء کرام علیہم السلام کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، «ووجه دلالة حديث الباب على الترجمة من جهة قياس الأنبياء على نبينا محمد صلى الله عليه وسلم، والحاق الاولياء بهم لقربهم منهم وان كانت درجتهم منحطة عنهم، أن البلاء فى مقابلة النعمة فمن كانت نعمة (الله عليه اكثر) كان بلاؤه أشد .»
”حدیث باب کی ترجمہ پر وجہ دلالت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس انبیاء کی اس جہت پر ہے اور ان کے ساتھ اولیاء (اہل علم) کے اطاق کی جہت سے کیوں کہ وہ ان کے قریب ہیں، اگرچہ درجہ میں ان سے کم تر ہیں، اس میں سرّ یہ ہے کہ بلاء، نعمت کے مقابلے میں ہوتی ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہوئی، اس پر بلاء بھی اسی کے لحاظ سے شدید ہوا کرتی ہے۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بیان سے مناسبت واضح ہوتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر انبیاء پر قیاس فرما رہے ہیں، اس موقع پر امام بخاری رحمہ اللہ یہ ثابت فرما رہے ہیں کہ جس طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت قسم کی آزمائیشیں نازل ہوئیں ہیں اسی طرح دیگر انبیاء پر بھی آزمائشوں کا دور رہا۔
ترجمۃ الباب کے الفاظ بھی حدیث ہی ہیں، جسے امام دارمی رحمہ اللہ ذکر فرماتے ہیں چنانچہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا: «الأنبياء، ثم الأمثل فالأمثل، يبتلى الرجل على حسب دينه .» [سنن دارمی كتاب الرقائق: 412/2] ”سب سے زیادہ تکالیف انبیاء پر ہوا کرتی ہیں، پھر ان پر جو ان سے قریب ہوتے ہیں، پھر ان پر جوان سے قریب ہوتے ہیں، آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔“
لہٰذا ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت یوں ہو گی کہ سخت ترین تکلیف میں مبتلا انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ نے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں کے خاتم ہیں، لہٰذا اس جہت سے آپ پر تکالیف نازل ہوئیں تو دیگر انبیاء پر بھی نازل ہوئی ہوں گی۔
راقم الحروف محمد راز کی زندگی بھی بیشتر آلام و تفکرات میں ہی گزر ی ہے اور امید قوی ہے کہ ان سب کا اجر کفارہ ذنوب ہوگا۔
و کذا أرجو من رحمة ربي آمین۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے دیگر انبیاء علیہم السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس کیا۔
جب پیغمبروں کو قرب الٰہی کے زیادہ ہونے کے باعث سنگین مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو اولیاء اللہ میں بھی یہی نسبت ہو گی، یعنی جتنا قرب الٰہی زیادہ ہو گا اتنی ہی تکالیف زیادہ ہوں گی۔
(2)
بہرحال ان احادیث میں اہل ایمان کے لیے بڑی بشارت ہے، اس لیے تکالیف و مصائب اور امراض دنیا میں اہل ایمان کو پہنچتے رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں انہیں بہت زیادہ اجرو ثواب اور اونچے درجات عطا فرماتا ہے۔
مریض کی ہمت افزائی کرتے ہوئے اسے صحت مند ہونے اور رحمت و بخشش کی بشارت دینا مناسب ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ ایسا کرنے سے تقدیر تو نہیں بدل سکتی، البتہ اس کی طبیعت خوش ہو جاتی ہے۔
(سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1438)
لیکن اس کی سند کمزور ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے۔
(فتح الباري: 151/10، و سلسلة الأحادیث الضعیفة، 336/1، رقم: 184)
(1)
طنب: طناب رسی۔
(2)
فسطاط: بڑاخیمہ۔