حدیث نمبر: 5643
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيحُ مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا مَرَّةً ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالْأَرْزَةِ لَا تَزَالُ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً " ، وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنِي سَعْدٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے سعد نے ، ان سے عبداللہ بن کعب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی سب سے پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی برابر کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے ۔ اور زکریا نے بیان کیا کہ ہم سے سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن کعب نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ماجد محترم المقام کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2811 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بلا شبہ درختوں میں ایک درخت ایسا ہے، جس کے پتے گرتے نہیں ہیں۔اور وہ مسلمان کی طرح (فیض رساں) ہے تو مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟"لوگ جنگلات کے درختوں کے بارے میں سوچنے لگے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا۔وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن میں نے (چھوٹا ہونے کے سبب بتانے سے) شرم محسوس کی، پھر صحابہ نے پوچھا، اے اللہ کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمیں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7098]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، طلبہ کی معلومات اور ذہانت کا جائزہ لینا درست ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کا گابھا کھا رہے تھے تو آپ نے سوال کیا کہ وہ درخت کون سا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہر اعتبار سے نفع بخش اور فیض رساں ہے، جس طرح مسلمان مجسمۂ فیض اور پیکر خیر ہے، اس کے کسی عضو سے سے لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچتی، اس طرح اس کا کوئی حصہ اور چیز بیکار نہیں جاتا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جمار کے قرینہ سے سمجھ گئے کہ یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن کبار صحابہ کاذہن اس قرینہ کی طرف نہ گیا، لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بڑوں کے احترام میں سوال کا جواب دینے سے شرم وحیا محسوس کی، جو ایک پسندیدہ نعمت ہے، لیکن بڑوں کی خاموشی کی صورت میں، جبکہ جواب دینے میں پہل نہیں تھی، جواب دینا ادب و احترام کے منافی نہ تھا، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتا، کیونکہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شاباش اور دعا کا باعث بنتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7098 سے ماخوذ ہے۔