حدیث نمبر: 5634
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے زید بن عبداللہ بن عمر نے ، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5634
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2065 | سنن ابن ماجه: 3413 | بلوغ المرام: 15 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 395

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5634. ام المومنین سیدہ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ کر کے ڈال رہا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5634]
حدیث حاشیہ: لفظ یجرجر کامصدر جرجرة ہے جو اونٹ کی آواز پر بولا جاتا ہے۔
جب اونٹ صیحان میں چلاتا ہے پس معلوم ہوا کہ چاندی کے برتن میں پانی پینے والے کے پیٹ میں دوزخ کی آگ اونٹ جیسی آواز پیدا کرے گی۔
اللھم أعذنا منھا آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5634 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5634. ام المومنین سیدہ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ کر کے ڈال رہا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5634]
حدیث حاشیہ:
(1)
عربی زبان میں جرجرة اونٹ کی اس آواز کو کہتے ہیں جو وہ ڈانتے وقت نکالتا ہے۔
ممکن ہے وہ پانی آگ بن جائے اور اس کے پیٹ میں جوش مارے جس سے اس قسم کی آواز پیدا ہو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جہنم کی آگ کی حقیقی آواز ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
بہرحال چاندی وغیرہ کے برتن استعمال کرنا مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5634 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2065 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو انسان چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ بس اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5385]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
يجر جر: غٹا غٹ، مسلسل آواز کے ساتھ۔
فوائد ومسائل: سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال، کھانے پینے کے لیے ہو یا کسی اور صورت کے لیے مثلا سرمہ دانی یا سلائی بنانا، ان میں تیل ڈالنا، جمہور کے نزدیک حرام ہے، کیونکہ اس میں اسراف و تبذیر ہے اور انسان کے فخر و غرور اور خود پسندی کے جذبات ابھرتے ہیں، نادار اور محتاج لوگوں کی دل شکنی ہوتی ہے اور کافروں کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2065 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3413 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´چاندی کے برتن میں پینے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3413]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
چاندی اور سونے کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے۔

(2)
شرعی احکام کی مخالفت جہنم کے عذاب کاباعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3413 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 15 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏الذي يشرب في إنآء الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتنوں میں (کھاتا) پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 15]
لغوی تشریح:
«يُجَرْجِرُ» «جَرْجَرَةٌ» سے ماخوذ ہے۔ پیٹ میں داخل ہوتے وقت پانی سے جو گلے میں آواز پیدا ہوتی ہے اسے «جَرْجَرَة» کہتے ہیں۔
فائدہ:
اس حدیث میں بھی سونے چاندی کے برتنوں میں خورد و نوش کی ممانعت ہے اور اس ممانعت پر عمل پیرا نہ ہونے والوں کے لیے جہنم کی آگ کی وعید ہے کہ ایسے لوگ نار جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
راویٔ حدیث:
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا: ان کا نام ہند بنت ابی امیہ ہے۔ ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسود مخزومی کی زوجیت میں تھیں۔ حبشہ کی جانب پہلی ہجرت میں ان کے ساتھ تھیں، پھر دونوں مدینہ آ گئے تھے۔ غزوہ احد میں ابوسلمہ کو جو زخم لگا تھا اس کی وجہ سے وہ وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے بعد شوال 4 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے حرم میں داخل فرما لیا۔ 59 یا 62 ہجری میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر 84 برس تھی۔ بقیع قبرستان میں دفن ہوئیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 15 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 395 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا منع ہے`
«. . . 262- مالك عن نافع عن زيد بن عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عبد الرحمن ابن أبى بكر الصديق عن أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: الذي يشرب فى آنية الفضة إنما يجرجر فى بطنه نار جهنم. . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ (غٹ غٹ) بھرتا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 395]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 5634، ومسلم 1065، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے۔
➋ کفار و مشرکین کے شعار کا استعمال یا ان کے ایسے امور سے مشابہت کرنا جن کی معانعت کتاب و سنت سے ثابت ہے، حرام ہے۔
➌ سونے اور چاندی کے برتن بنانا جائز نہیں۔
➍ اگر کوئی برتن ٹوٹ جائے تو اسے سونے یا چاندی کے تاروں سے جوڑنا جائز ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ ٹوٹ گیا تھا جسے چاندی کے تاروں سے جوڑا گیا تھا۔ یہ پیالہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جس سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار (دودھ یا پانی) پلایا تھا۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس پیالے کے لوہے کے حلقے کو ہٹا کر سونے یا چاندی کا حلقہ بنا دیں۔ جب سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پتا چلا تو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: «لاَ تُغَيِّرَنَّ شَيْئًا صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام کیا ہے، اسے ہرگز تبدیل نہ کرنا۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 5638]
➎ فائدہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیالے کی ایسی جگہ سے پینا ممنوع قرار دیا گیا ہے جہاں سے وہ ٹوٹا ہوا ہو۔ دیکھئے: [المعجم الاوسط للطبراني 6829 وسنده حسن، نيز ديكهئے سنن ابي داود: 3722]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 262 سے ماخوذ ہے۔