صحيح البخاري
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے بیان میں
بَابُ الشُّرْبِ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ: باب: مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینا۔
حدیث نمبر: 5628
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی ، انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرما دی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5627 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5627. حضرت ایوب سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم سے حضرت عکرمہ نے کہا: کیا میں تمہیں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتاؤں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کی تھیں؟ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا تھا نیز اس سے بھی منع کیا کہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی لگانے سے روکے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5627]
حدیث حاشیہ: ہمارے زمانے میں مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی لڑ جھگڑ کر عدالت تک نوبت لے جاتے اور دنیا و دین برباد کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5627 سے ماخوذ ہے۔