حدیث نمبر: 5627
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ لَنَا عِكْرِمَةُ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ قِصَارٍ ، حَدَّثَنَا بِهَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فَمِ الْقِرْبَةِ أَوِ السِّقَاءِ ، وَأَنْ يَمْنَعَ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي دَارِهِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا کہ` ہم سے عکرمہ نے کہا ، تمہیں میں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتا دوں جنہیں ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت کی تھی اور ( اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ ) کوئی شخص اپنے پڑوس کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے روکے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5627
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5628 | سنن ابن ماجه: 3420

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5627. حضرت ایوب سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم سے حضرت عکرمہ نے کہا: کیا میں تمہیں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتاؤں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کی تھیں؟ رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا تھا نیز اس سے بھی منع کیا کہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی لگانے سے روکے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5627]
حدیث حاشیہ: ہمارے زمانے میں مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی لڑ جھگڑ کر عدالت تک نوبت لے جاتے اور دنیا و دین برباد کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5627 سے ماخوذ ہے۔