صحيح البخاري
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے بیان میں
بَابُ تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ: باب: رات کو برتن کا ڈھکنا ضروری ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ ، فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحُلُّوهُمْ فَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا ، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا ، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ " .´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی جب ابتداء ہو یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) جب شام ہو تو اپنے بچوں کو روک لو ( اور گھر سے باہر نہ نکلنے دو ) کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو اور دروازے بند کر لو اور اس وقت اللہ کا نام لو کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو ۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھک دو ، خواہ کسی چیز کو چوڑائی میں رکھ کر ہی ڈھک سکو اور اپنے چراغ ( سونے سے پہلے ) بجھا دیا کرو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
طبی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ رات کی روشنی گل کر کے سونا بہت آرام کا باعث ہوتا ہے۔
چراغ جلتا چھوڑنے کا حدیث میں یہ نقصان بیان ہوا ہے: ’’چوہیا لوگوں کے گھروں کو جلا ڈالتی ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3732)
یعنی وہ جلتی بتی کو گھسیٹ لے جاتی ہے، جس سے گھر جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بجلی، گیس اور کوئلے کی انگیٹھی جلتی چھوڑ کر سونا بہت مضر صحت ہے، اس سے بھی آگ لگ جاتی ہے، بجلی کا سرکٹ شارٹ ہو جاتا ہے۔
گیس کی وجہ سے لوگوں کی اموات واقع ہو جاتی ہیں۔
اگر ضرورت ہو تو بجلی کا ہلکی روشنی والا بلب روشن رکھا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں یہ خطرہ نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم
1۔
ایک دوسری روایت میں ہے: ’’رات کے وقت اللہ کا نا م لے کر بتیاں گل کردو اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ بند کرو۔
اللہ کا نام لے کر برتن پرڈھکن دے دو۔
اگرڈھکن نہ ملے تو کوئی بھی چیز رکھ دو۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3280)
2۔
بچوں کو روک لینے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بچے نجاست آلود ہوتے ہیں اور اللہ کے ذکر کے ذریعے سے بچاؤ کی صلاحیت ان میں انہیں ہوتی۔
جب شیاطین ایسی حالت میں بچے کو دیکھتے ہیں توان کے چمٹ جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ شیطان گندگی سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔
رات کے وقت ان کے پھیلنے کا سبب یہ ہے کہ روشنی کی نسبت اندھیرے میں ان کی حرکات زیادہ ہوتی ہیں اور وہ اندھیرے سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، نیز وہ ہر سیاہ چیز سے مانوس ہوتے ہیں جیسا کہ سیاہ کتے کو شیطان کہا گیا ہے۔
3۔
امام بخاری ؒنے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ہے: ’’رات کو چراغ بجھادو کیونکہ سوتے وقت چوہابتی نکال لیتا ہے جس سے گھر جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3316)
اس میں چوہے کا ذکر ہے، اس لیے مذکورہ عنوان کے تحت اسے ذکر کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
بعض نے کہا سانپ مراد ہیں۔
اکثر سانپ اس وقت اپنے بلوں سے ہوا کھانے کے لیے نکلتے ہیں۔
ظاہر حدیث کی بنا پر شیاطین نکلتے، زمین پر پھیلتے اور بنی آدم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(آمنا و صدقنا واللہ أعلم بحقیقة الحال)
1۔
رات کے وقت شیاطین کے پھیلنے کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ روشنی کی نسبت اندھیرے میں ان کی حرکات زیادہ ہوتی ہیں وہ اندھیرے میں فائدہ اٹھاتے ہیں اور روشنی کو مکروہ جانتے ہیں اسی طرح ہر سیاہ چیز کو وہ اچھا جانتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے سیاہ کتے کو شیطان کہا ہے اس کی وجہ بھی ان کا سیاہ چیز سے مانوس ہونا ہے۔
2۔
اس وقت بچوں پر خوف کا سبب یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ نجاست وغیرہ لگی ہوتی ہے جس سے شیاطین کو بڑی دلچسپی ہے ان سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے بچاجا سکتا ہے جس کی صلاحیت بچوں میں نہیں ہوتی۔
اس بنا پر شیاطین جب پھیلتے ہیں تو جو چیز ان کے مناسب ہوتی ہے اس کے ساتھ متعلق ہو جاتے ہیں رات کو سوتے وقت اگر نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔
مثلاً: قندیل چھت سے لٹک رہی ہے یا بجلی کا بلب جل رہا ہے تو ضرورت کے پیش نظر رات کے وقت ان کو جلانا جائز ہے۔
بہر حال انسان کو چاہیے کہ ان احکام پر عمل پیرا رہے کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے اور انسان تکلیف سے محفوظ رہتا ہے۔
واللہ المستعان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے “ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2604]
مستحب ہے کہ مغرب کے وقت سفرقدرے موقوف کرلیا جائے۔
اور پھر اندھیرا چھانے پر باقی سفر کیا جائے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3733]
فائدہ: شیطانی اثرات اور ان کے حملوں سے بچنے کےلئے مسنون اذکار کے ساتھ ساتھ اس مذکورہ حفاظتی تدبیر کا اہتمام کرنا بھی لازمی ہے۔
اس حدیث میں رات کے بعض آداب بیان کیے گئے ہیں کہ ان کا لحاظ رکھتے ہوئے رات گزارنی چا ہیے۔