حدیث نمبر: 5616
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ ، حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ فَشَرِبَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَذَكَرَ رَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قِيَامًا ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا ، انہوں نے نزال بن سبرہ سے سنا ، وہ علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ` انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد کوفہ کے صحن میں لوگوں کی ضرورتوں کے لیے بیٹھ گئے ۔ اس عرصہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا پھر ان کے پاس پانی لایا گیا ۔ انہوں نے پانی پیا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے ، ان کے سر اور پاؤں ( کے دھونے کا بھی ) ذکر کیا ۔ پھر انہوں نے کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا ، اس کے بعد کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا ، وضو کا پانی کھڑے ہو کر پیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5616
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5615 | سنن ابي داود: 3718

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5616. حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے انہوں نے نماز ظہر پڑھی، پھر (مسجد کوفہ کے) صحن میں لوگوں کی ضروریات کے لیے بیٹھ گئے حتیٰ کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ پھر ان کے پاس پانی لایا گیا تو انہوں نے پیا، اس سے منہ اور ہاتھ دھوئے راوی نے سر اور پاؤں کا بھی ذکر کیا۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے کھڑے وضو سے بچا ہوا پانی نوش کیا۔ اس کے بعد کہا: کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ خیال کرتے ہیں حالانکہ نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5616]
حدیث حاشیہ: جمہور علماء کے نزدیک اس میں کوئی قباحت نہیں ہے جیسے کھڑے کھڑے پیشاب کرنے میں جبکہ کوئی عذر بیٹھنے سے مانع ہو۔
بروایت مسلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کھڑے کھڑے پانی پینے پر جھڑکا۔
جمہور کہتے ہیں یہ نہی تنزیہی ہے اور بیٹھ کر پانی پینا بہتر ہے۔
جو لوگ کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ جانتے ہیں وہ بھی اس کے قائل ہیں کہ وضو سے بچا ہوا پانی اور اسی طرح زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔
وفي حدیث علی من الفوائد أن علی العالم إذا رأی الناس اجتنبوا شیئا وھو یعلم جوازہ أن یوضع لھم وجه الصواب فیه خشیة أن یطول الأمر فیظن تحریمه الخ، یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ فائدہ ظاہر ہوا کہ کوئی عالم جب دیکھے کہ لوگ ایک جائز چیز کے کھانے سے پرہیز کرتے ہیں تو ان کے ظن فاسد کے مٹانے کو اس چیز کے کھانے کے جواز کو واضح کر دے ورنہ ایک دن عوام اسے بالکل ہی حرام سمجھنے لگ جائیں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5616 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5616. حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے انہوں نے نماز ظہر پڑھی، پھر (مسجد کوفہ کے) صحن میں لوگوں کی ضروریات کے لیے بیٹھ گئے حتیٰ کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ پھر ان کے پاس پانی لایا گیا تو انہوں نے پیا، اس سے منہ اور ہاتھ دھوئے راوی نے سر اور پاؤں کا بھی ذکر کیا۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے کھڑے وضو سے بچا ہوا پانی نوش کیا۔ اس کے بعد کہا: کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ خیال کرتے ہیں حالانکہ نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5616]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی شخص کو کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا ہے۔
(سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3717)
اس حدیث کے پیش نظر بلا وجہ کھڑے ہو کر پینا کسی طرح مناسب نہیں۔
اس موضوع پر بکثرت احادیث آئی ہیں، بلکہ بعض احادیث میں ہے کہ اگر کوئی بھول کر کھڑے کھڑے پانی پی لے تو اسے قے کر دے۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5279 (2026) (2)
ان حدیثوں سے پتا چلتا ہے کہ اسلام آرام سے بیٹھ کر پینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا کہ آپ آرام و سکون سے بیٹھ کر پانی وغیرہ پیتے تھے، ہاں کسی ضرورت کے پیش نظر کھڑے ہو کر پینا جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے، گھر میں مشکیزہ لٹک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھڑے کھڑے پانی پیا۔
(جامع الترمذي، الأشربة، حدیث: 1892)
لیکن کھڑے ہو کر پینے کو معمول نہیں بنانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5616 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3718 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھڑے ہو کر پانی پینا کیسا ہے؟`
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3718]
فوائد ومسائل:
فائدہ: جامع ترمذی کی ایک حدیث جس کو امام ترمذی نے صحیح کہا ہے۔
اس میں ہے کہ حضرت کبشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ر سول اللہ ﷺ ان کے ہاں گئے۔
گھر میں مشکیزہ لٹک رہا تھا۔
تو آپﷺنے اس سے کھڑے کھڑے پانی نوش فرمایا۔
پھر میں نے اس مشکیزے کے منہ کا وہ حصہ (جس سے آپﷺ کا دہن مبارک مس ہوا تھا۔
) کاٹ کر رکھ لیا۔
(جامع الترمذي، الأشربة، حدیث: 1892) اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ مشکیزے کو منہ لگا کر پینے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
اور آپﷺ نے اس سے روکا ہے۔
لیکن یہ نہی نہی تحریمی نہیں۔
اسے معمول بنائے بغیر ضرورت کے وقت ایسا کیا جا سکتا ہے۔
جس طرح اگلی حدیث میں وارد ہوا۔
آپﷺکا یہ عمل امت کےلئے آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
اس طرح کا ایک واقعہ مسند احمد میں ام سلیم رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔
(مسند أحمد: 376/6) نیز سفر حج میں بھی نبی کریمﷺ نے زمزم کھڑے ہوکر پیا تھا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1637)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3718 سے ماخوذ ہے۔