حدیث نمبر: 5607
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَحَلَبْتُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فِي قَدَحٍ ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ، وَأَتَانَا سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَطَلَبَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْهِ وَأَنْ يَرْجِعَ ، فَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمود نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوالنضر نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( راستہ میں ) ہم ایک چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیاسے تھے پھر میں نے ایک پیالے میں ( چرواہے سے پوچھ کر ) کچھ دودھ دوہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پیا اور اس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی اور سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہمارے پاس ( تعاقب کرتے ہوئے ) پہنچ گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی ۔ آخر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بددعا نہ کریں اور وہ واپس ہو جائے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5607
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5607. حضرت براء ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ آپ کے ہمراہ تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بیان کیا کہ ہم راستے میں ایک چرواہے کے قریب سے گزرے جبکہ رسول اللہ ﷺ کو پیاس لگی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ میں ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ لایا، رسول اللہ ﷺ نے وہ نوش فرمایا تو مجھے راحت محسوس ہوئی۔ اس دوران میں سراقہ بن جعشم گھوڑے ہر سوار ہو کر ہمارے پاس پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے بد دعا کی۔ سراقہ آپ ﷺ سے التجا کی کہ آپ بددعا نہ کریں وہ واپس چلا جائے گا۔ نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5607]
حدیث حاشیہ: سراقہ بن جعشم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعاقب میں آیا تھا آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے اس کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا، گھوڑے کا پاؤں زمین میں دھنس گیا تین بار ایسا ہی ہوا آخر اس نے پختہ عہد کیا کہ اب میں واپس لوٹ جاؤں گا بلکہ جو کوئی آپ کی تلاش میں ملے گا اسے بھی واپس لوٹا دوں گا آخر سراقہ مسلمان ہو گیا تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5607 سے ماخوذ ہے۔