حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَحَلَبْتُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فِي قَدَحٍ ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ، وَأَتَانَا سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَطَلَبَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْهِ وَأَنْ يَرْجِعَ ، فَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´مجھ سے محمود نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوالنضر نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( راستہ میں ) ہم ایک چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیاسے تھے پھر میں نے ایک پیالے میں ( چرواہے سے پوچھ کر ) کچھ دودھ دوہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پیا اور اس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی اور سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہمارے پاس ( تعاقب کرتے ہوئے ) پہنچ گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی ۔ آخر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بددعا نہ کریں اور وہ واپس ہو جائے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ۔