صحيح البخاري
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات کے بیان میں
بَابُ مَنْ رَأَى أَنْ لاَ يَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ إِذَا كَانَ مُسْكِرًا، وَأَنْ لاَ يَجْعَلَ إِدَامَيْنِ فِي إِدَامٍ: باب: اس بیان میں کہ گدری اور پکتہ کھجور ملا کر بھگونے سے جس نے منع کیا ہے نشہ کی وجہ سے اسی وجہ سے دو سالن ملانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5602
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ التَّمْرِ وَالزَّهْوِ ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ، وَلْيُنْبَذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، کہا ہم کو یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کی تھی کہ پختہ اور گدرائی ہوئی کھجور ، پختہ کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنایا جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو جدا جدا بھگونے کا حکم دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5602. حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے اس سے روکا تھا کہ پختہ کھجور نیز کھجور اور منقیٰ کو ملا کر نبیذ بنائی جائے آپ نے ہر ایک کو جدا جدا بھگونے کا حکم دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5602]
حدیث حاشیہ:
پختہ اور نیم پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنا، اسی طرح کشمش اور کھجور کو ملا کر جوس بنانا ممنوع ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان میں بہت جلد شدت آ جاتی ہے اور مشروب جلد ہی نشہ آور ہو جاتا ہے، اس لیے اس قسم کے نبیذ سے منع فرمایا گیا ہے۔
اگر ان چیزوں سے الگ الگ نبیذ تیار کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
پختہ اور نیم پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنا، اسی طرح کشمش اور کھجور کو ملا کر جوس بنانا ممنوع ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان میں بہت جلد شدت آ جاتی ہے اور مشروب جلد ہی نشہ آور ہو جاتا ہے، اس لیے اس قسم کے نبیذ سے منع فرمایا گیا ہے۔
اگر ان چیزوں سے الگ الگ نبیذ تیار کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5602 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1988 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زھو اور رطب دونوں کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ، زبیب اور تمر دونوں کو ملا کر نبیذ نہ تیار کرو، ہر ایک کو الگ الگ کر کے نبیذ بناؤ۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5154]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
زهو: سرخی یا زردی مائل کچی پکی کھجور، (گدری کھجور)
زهو: سرخی یا زردی مائل کچی پکی کھجور، (گدری کھجور)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1988 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5570 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دھاگے سے منہ بند مشکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور سوکھی کھجور سے اور ادھ کچی اور سوکھی کھجور سے نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور فرمایا: ” تم ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ بھگویا کرو ان مشکوں میں جن کے منہ دھاگے سے بندھے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5570]
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور سوکھی کھجور سے اور ادھ کچی اور سوکھی کھجور سے نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور فرمایا: ” تم ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ بھگویا کرو ان مشکوں میں جن کے منہ دھاگے سے بندھے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5570]
اردو حاشہ: باب کا مقصود یہ ہے کہ نبیذ مٹکوں وغیرہ کی بجائے چمڑے کے مشکیزوں میں بنائی جائے (چمڑے کے مشکیزے کا ہی منہ باندھا جا سکتاہے) مٹکوں خصوصا تارکول لگے ہوئے مٹکوں میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5570 سے ماخوذ ہے۔