مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5593
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَسْقِيَةِ ، قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً : فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ " . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا ، وَقَالَ فِيهِ : لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، وہ سلیمان بن ابی مسلم احول سے ، وہ مجاہد سے ، وہ ابوعیاض عمرو بن اسود سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے ؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن لاکھ لگے گھڑے ( روغن زفت لگے برتن ) میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی ۔ ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5593
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2000 | سنن نسائي: 5653

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5593. سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشکیزوں کے سوا دوسرے مخصوص برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ سے عرض کی: ہر کسی کو مشکیزہ کہاں سے مل سکتا ہے؟ تب آپ ﷺ نے تارکول کے برتن کے علاوہ مٹکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا۔ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جب نبی ﷺ نے چند برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5593]
حدیث حاشیہ: لفظی ترجمہ تو یوں ہے آپ نے مشکوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا مگر یہ مطلب صحیح نہیں ہو سکتا کیونکہ آگے یہ مذکور ہے کہ ہر شخص کو مشکیں کیسے مل سکتی ہیں؟ اس روایت میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح یوں ہے۔
نھیٰ عن الانتباذ إلا في الأسقیة۔
بعض علماء نے ان ہی احادیث کی رو سے گھڑوں اور لاکھی برتنوں اور کدو کے تونبے میں اب بھی نبیذ بھگونا مکروہ رکھا ہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت آپ نے اس وقت کی تھی جب شراب کی حرمت نئی نئی نازل ہوئی تھی کہ کہیں شراب کے برتنوں میں نبیذ بھگوتے بھگوتے لوگ پھر شراب کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔
جب شراب کی حرمت دلوں پر جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی۔
ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
(وحیدی)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔
یہ بھی اسی وقت کا ذکر ہے جبکہ شراب حرام کی گئی تھی اور شراب کے برتنوں کے استعمال سے بھی روک دیا گیا تھا۔
بعد میں یہ ممانعت اٹھا دی گئی تھی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5593 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2000 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا، لوگوں نے کہا: ہر انسان کے پاس (چمڑے، مشکیزے) نہیں ہیں، تو آپ نے لاکھی برتن کے سوا، عام برتنوں (گھڑوں) کی انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5210]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: پہلے آپ نے عام گھڑوں کی اجازت دی تھی، روغنی سے منع فرمایا تھا، بعد میں سب برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی، جیسا کہ حضرت بریدہ کی حدیث میں گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2000 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔