حدیث نمبر: 5579
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَمَا بِالْمَدِينَةِ مِنْهَا شَيْءٌ " .
مولانا داود راز

´ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے جو مغول کے صاحبزادے ہیں ، بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5579
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5579. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب شراب حرام کی گئی تو مدینہ طیبہ میں انگور کی شراب نہیں ملتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5579]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شراب صرف انگور سے بنے ہوئے نشہ آور مشروب ہی کو نہیں کہا جاتا بلکہ کسی بھی چیز کا رس پانی میں ڈال کر بنایا ہوا مشروب اگر نشہ آور ہو تو حرام ہے۔
(2)
مذکورہ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مطلق طور پر انگوروں کی شراب سے انکار نہیں کیا بلکہ مدینہ طیبہ میں حرمت خمر کے وقت اس قسم کے عام ہونے کا انکار کیا ہے۔
شراب انگوروں، کھجوروں اور شہد وغیرہ سے تیار کی جاتی تھی، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شراب ان دو قسم کی نباتات، یعنی کھجور اور انگور سے بنتی ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3378)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5579 سے ماخوذ ہے۔