صحيح البخاري
كتاب الأضاحي— کتاب: قربانی کے مسائل کا بیان
بَابُ إِذَا بَعَثَ بِهَدْيِهِ لِيُذْبَحَ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ: باب: اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا جانور حرم میں کسی کے ساتھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَجُلًا يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ ، وَيَجْلِسُ فِي الْمِصْرِ ، فَيُوصِي أَنْ تُقَلَّدَ بَدَنَتُهُ فَلَا يَزَالُ مِنْ ذَلِكِ الْيَوْمِ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ ، فَقَالَتْ : " لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَبْعَثُ هَدْيَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ " .´ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہیں اسماعیل نے خبر دی ، انہیں شعبی نے ، انہیں مسروق نے کہ` وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ام المؤمنین ! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں ( نشانی کے طور پر ) ایک قلادہ پہنا دیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں ۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے حلال ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
کعبہ مکرمہ کو قربانی بھیجنا تاکہ وہاں ذبح کی جائے بہت عظیم ثواب کا کام ہے مگر اس کا بھیجنے والا کسی ایسے امر کا پابند نہیں ہوتا جس کی پابندی ایک احرام والے شخص کو کرنی پڑتی ہے۔
(2)
کچھ اہل علم کا خیال ہے جس نے مکہ مکرمہ کی طرف ہدی، یعنی قربانی کا جانور بھیجا جب اس کے گلے میں قلادہ ڈال دیا گیا تو بھیجنے والے پر احرام کی پابندیاں ضروری ہو جاتی ہیں۔
وہ قربانی ہونے تک ان چیزوں سے پرہیز کرے گا جن سے ایک احرام والا شخص کرتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے یہ عنوان قائم کیا ہے اور بطور دلیل مذکورہ حدیث پیش کی ہے۔
واللہ أعلم
حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین ؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحب زادی ہیں۔
ان کی والدہ ماجدہ کا نام ام رومان بنت عامر بن عویمر ہے۔
آنحضرت ﷺ کے ساتھ شادی 10نبوی میں مکہ شریف میں ہوئی۔
2ھ میں ہجرت سے18ماہ بعد رخصتی عمل میں آئی۔
آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہ9سال رہی ہیں کیوں کہ وصال نبوی کے وقت حضرت عائشہ ؓ کی عمر اٹھارہ سال کی تھی۔
حضرت عائشہ ؓ بہت بڑی فصیحہ فقیہ عالمہ، فاضلہ تھیں۔
حضور ؓ سے بکثرت احادیث آپ نے نقل کی ہیں۔
وقائع عرب و محاورات و اشعار کی زبردست واقف کار تھیں۔
صحابہ کرام اور تابعین عظام کے ایک بڑے طبقہ نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔
مدینہ طیبہ میں 57ھ یا 58ھ میں شب سہ شنبہ میں آپ کا انتقال ہوا۔
وصیت کے مطابق شب میں بقیع غرقد میں آپ کو دفن کیا گیا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
جو ان دنوں معاویہ ؓ کے دور حکومت میں مدینہ میں مروان کے ماتحت تھے۔
بقیع غرقد مدینہ کا پرانا قبرستان ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے ہی فاصلہ پر ہے۔
آج کل اس کی جانب مسجد نبوی سے ایک وسیع سڑک نکال دی گئی ہے۔
قبرستان کو چاروں طرف ایک اونچی فصیل سے گھیر دیا گیا ہے۔
اندر پرانی قبریں بیشتر نابود ہو چکی ہیں، اہل بدعت نے پہلے دور میں یہاں بعض صحابہ و دیگر بزرگان دین کے ناموں پر بڑے بڑے قبے بنا رکھے تھے۔
اور ان پر غلاف، پھول ڈالے جاتے۔
اور وہاں نذر نیازیں چڑھائی جاتی تھیں۔
سعودی حکومت نے حدیث نبوی کی روشنی میں ان سب کو مسمار کردیا ہے۔
پختہ قبریں بنانا شریعت اسلامیہ میں قطعاً منع ہے اور ان پر چادر پھول محدثات و بدعات ہیں۔
اللہ پاک مسلمانوں کو ایسی بدعات سے بچائے۔
آمین
ہدی کے جانور وہ ہوتے ہیں جن کے متعلق یہ نیت کی جاتی ہے کہ انھیں مکہ لے جا کر ذبح کیا جائے گا۔
ایسا کرنے سے جانور بھیجنے والے پر احرام کی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔
رسول اللہ ﷺ نے ہدی کہ جانور مکہ لے جانے کے لیے حضرت ابوبکر ؓ کو وکیل بنایا اور ان کی نگہداشت کےلیے حضرت عائشہ ؓ تعینات تھیں۔
بہرحال امام بخاری ؒ کا مقصد ہے کہ قربانی بھی عبادت ہے، اس قسم کی عبادت میں کسی دوسرے کو وکیل بنایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ عبادت محضہ نہیں ہے۔
والله أعلم.
(1)
کوہان کی دائیں یا بائیں جانب جلد میں چھری لگا کر خون نکالنے کو اشعار کہتے ہیں، اس طرح قربانی کا جانور دوسرے جانوروں سے ممتاز رہتا ہے، جب گم ہو جائے تو پہچانا جاتا ہے۔
تقلید کے معنی جانور کے گلے میں کسی چیز کا لٹکانا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔
بکری چونکہ کمزور ہوتی ہے، اس لیے اس کا اشعار درست نہیں۔
امام ابو حنیفہ ؒ کے علاوہ اشعار کو کسی نے بھی مکروہ نہیں کہا۔
راجح یہ ہے کہ انہوں نے ایسے اشعار کو مکروہ کہا ہے جس سے جانور ہلاکت کے قریب ہو جاتا تھا، یعنی انہوں نے نفس اشعار کو مکروہ نہیں کہا بلکہ اس میں مبالغہ آمیزی کو ناپسند کیا ہے، مبالغے کی نفی سے اصل شے کی نفی نہیں ہوتی۔
ابو سائب کہتے ہیں کہ ہم حضرت وکیع کے پاس تھے کہ کسی آدمی نے ابراہیم نخعی کے حوالے سے اشعار کو مکروہ کہا اور اسے مُثلہ قرار دیا۔
حضرت وکیع اس پر بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کا عمل بتاتا ہوں اور تو اس کے مقابلے میں ابراہیم نخعی کی بات پیش کرتا ہے، تو اس بات کا حقدار ہے کہ تجھے قید میں رکھا جائے۔
بہرحال اشعار سنت ہے اور اس میں مبالغہ ناپسندیدہ عمل ہے۔
(فتح الباري: 688/3)
نووی نے کہا کہ اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص خود مکہ کو نہ جاسکے تو قربانی کا جانور وہاں بھیج دینا مستحب ہے اور جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ صرف قربانی روانہ کرنے سے آدمی محر م نہیں ہوتا جب تک خود احرام کی نیت نہ کرے۔
(وحیدی)
(1)
جس شخص نے حج کرنا ہے اسے چاہیے کہ میقات سے اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈالے اور ان کا اشعار کرے۔
اور جو شخص حرم میں قربانی بھیجنا چاہتا ہے اور اس کا پروگرام حج کا نہیں تو اسے میقات جانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنے گھر ہی میں قربانی کو قلادہ پہنا دے اور اس کا اشعار کر دے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے نو ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہمراہ قربانی کے جانور ارسال کیے اور ایسا کرنے سے آپ پر احرام کی پابندیاں عائد نہیں ہوئیں۔
(3)
بہرحال قربانی کا جانور مکے بھیجنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان خود محرم ہو اور انہیں قلادہ پہنانے یا اشعار کے لیے بھی یہ شرط نہیں کہ پہلے سے احرام پہنا ہوا ہو۔
(فتح الباري: 686/3)
ایسے جانور کوعرب لوگ نہ کوٹتے تھے نہ اس سے متعرض ہوتے، اور اشعار کے معنی خود کتاب میں مذکور ہیں یعنی اونٹ کا کوہان داہنی طرف سے ذرا سا چیر دینا اور خون بہا دینا یہ بھی سنت ہے اور جس نے اس سے منع کیا اس نے غلطی کی ہے۔
(1)
"هدي" اس جانور کو کہا جاتا ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لیے حرم مکی کی طرف روانہ کیا جائے اور وہ کم از کم بکری ہے، اس لیے اونٹ، گائے اور بکری کو بطور ہدی مکہ روانہ کیا جا سکتا ہے، البتہ انہیں ہار پہنانے میں اختلاف ہے۔
بعض کے نزدیک بکری کو ہار پہنانا مسنون عمل نہیں۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کی تردید میں یہ عنوان قائم کیا ہے اور احادیث پیش کی ہیں۔
اس پر اتفاق ہے کہ اسے اشعار نہ کیا جائے کیونکہ بکری کمزور ہونے کے باعث زخم کی متحمل نہیں ہو سکتی، نیز اس کے بالوں کی وجہ سے اشعار مخفی رہتا ہے جس سے اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
(2)
امام بخاری نے اس سلسلے میں چار احادیث پیش کی ہیں جن سے ثابت کیا ہے کہ بکری کو ہدی کے طور پر قلادہ پہنایا جا سکتا ہے: پہلی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بکریوں کو بطور ہدی مکہ مکرمہ روانہ کیا تھا۔
اس حدیث سے مقصود ان حضرات کی تردید کرنا ہے جو بکریوں کو بطور ہدی بھیجنے سے انکار کرتے ہیں۔
دوسری حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خود بکریوں کے گلے میں ہار ڈالتے تھے۔
اس روایت پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسے بیان کرنے والے حضرت اسود متفرد (اکیلے)
ہیں۔
اس اعتراض کی چنداں حیثیت نہیں کیونکہ اسود ثقہ راوی ہیں اور ان کا تفرد کوئی نقصان نہیں دیتا۔
آخری حدیث حضرت مسروق کے واسطے سے ہے اور اس میں اگرچہ بکریوں کے گلے میں ہار ڈالنے کی صراحت نہیں ہے، تاہم بکری ہدی کے افراد سے ہے اور جو اسے صرف اونٹوں یا گایوں کے لیے خاص کرتا ہے اسے چاہیے کہ دلیل پیش کرے۔
بہرحال بکری کو بطور ہدی مکہ مکرمہ روانہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے گلے میں ہار بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 692/3)
تو باب کا مطلب ثابت ہو گیا یعنی قران کے اونٹ اور گایوں کے لیے ہار بٹنا، یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ ؓؓ اپنے ہاتھوں سے یہ ہار بٹا کرتی تھیں پس عورتوں کے لیے اس قسم کی صنعت حرفت کے کام کرنا کوئی امر معیوب نہیں ہے جیسا کہ نام نہاد شرفاء اسلام کے تصورات ہیں جو عورتوں کے لیے اس قسم کے کاموں کو اچھا نہیں جانتے یہ انتہائی کم فہمی کی دلیل ہے۔
(1)
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اپنی ہدی کو قلادہ پہنا دیا ہے۔
‘‘ "ھدي" کا لفظ اونٹ اور گائے دونوں کو شامل ہے اور رسول اللہ ﷺ نے دونوں قسم کے جانوروں کو "هدي" بنایا تھا۔
اس سے عنوان ثابت ہوتا ہے، یعنی قربانی کے اونٹوں اور گایوں کے لیے ہار تیار کرنا ثابت ہوا۔
(2)
اونٹ کا ذکر تو عام احادیث میں آتا ہے، گائے کے متعلق بھی حدیث میں ہے کہ نحر کے دن نبی ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی تھی لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ اسے مدینہ طیبہ سے لے کر گئے تھے۔
بہرحال قربانی کے جانوروں کے لیے ہار وغیرہ تیار کرنا ثابت ہے۔
(فتح الباري: 687/3) (3)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ خود اپنے ہاتھوں سے ہار تیار کرتی تھیں، اس لیے عورتوں کے لیے اس قسم کے صنعت و حرفت کے کام کرنا کوئی معیوب نہیں۔
آج کل کے نام نہاد شرفاء ایسے کاموں کو عورتوں کے لیے اچھا خیال نہیں کرتے۔
یہ ان کی کور ذوقی اور کم فہمی کی علامت ہے۔
واللہ أعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے سارے قلادے (پٹے) میں ہی بٹتی تھی ۱؎ پھر آپ احرام نہ باندھتے (حلال ہی رہتے تھے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 909]
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بکریوں کی تقلید بھی مستحب ہے، امام مالک اور امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ بکریوں کی تقلید مستحب نہیں ان دونوں نے تقلید کو اونٹ گائے کے ساتھ خاص کیا ہے، یہ حدیث ان دونوں کے خلاف صریح حجت ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ کمزوری کا باعث ہو گی، لیکن یہ دلیل انتہائی کمزور ہے اس لیے کہ تقلید سے مقصود پہچان ہے انہیں ایسی چیز کا قلادہ پہنایا جائے جس سے انہیں کمزوری نہ ہو۔
اللہ عزوجل ہم سب کو مذہبی و معنوی تقلید سے محفوظ رکھے، اللھم آمین۔
ام المؤمنین (عائشہ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال (غیر مُحرم) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1759]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر (یعنی قربان گاہ پر) پہنچے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2778]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی (قربانی کے جانور) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2777]
(2) "پرہیز نہیں فرماتے تھے۔" یعنی اس طرح جانور حرم میں بھیج دینے سے بھیجنے والا محرم نہیں بن جاتا کہ اس پر احرام کی پابندیاں لاگو ہوں بلکہ عام کپڑے پہنے گا اور جماع وغیرہ بھی کر سکے گا، البتہ ایک اور روایت میں قربانی کی نیت رکھنے والے شخص کو ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجامت (بال اور ناخن کاٹنے) سے روکا گیا ہے۔ (صحیح مسلم، الأضاحي، حدیث: 1977) مگر اس کا جانور بھیجنے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حکم تو ہر قربانی کرنے والے کے لیے ہے، یہاں کرے یا حرم میں بھیجے۔
(3) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ جانور حرم کو بھیجنے والا محرم ہو جاتا ہے، مگر یہ خیال درست نہیں۔ واللہ أعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال (غیر محرم) ہی رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2781]
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں (قلادوں) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2782]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ نے اسے ان کے گلوں میں لٹکایا، اور ان کا اشعار کیا، اور بیت اللہ کی طرف ان کا رخ کر کے روانہ فرمایا، اور خود آپ مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2785]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹتی تھی تو آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے، اور ہم نہیں جانتے کہ حج سے (حاجی کو) بیت اللہ کے طواف ۱؎ کے علاوہ بھی کوئی چیز حلال کرتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2797]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (جو قربانی کے لیے مکہ بھیجی جاتی تھیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2787]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اسے ہدی کے گلے میں ڈالتے تھے اور اسے میرے والد کے ساتھ بھیجتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی ایسی چیز کا استعمال ترک نہیں کرتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی ہے یہاں تک کہ ہدی کو نحر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2795]
اس بارے میں حضرت عبداللہ عباس ؓ کا فتوی درست نہ تھا، اس لیے حضرت عائشہ ؓ نے اس کی تردید کردی۔
معلوم ہوا کہ غلطیوں کا امکان بڑی شخصیتوں سے بھی ہو سکتا ہے، ممکن ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس خیال سے بعد میں رجوع کر لیا ہو۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ امر حق جسے بھی معلوم ہو ظاہر کر دینا چاہئے اور اس بارے میں کسی بھی بڑی شخصیت سے مرعوب نہ ہونا چاہئے کیوں کہ الحق یعلو و لا یعلی۔
یعنی امر حق ہمیشہ غالب رہتا ہے اسے مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔
(1)
قربانی کے جانور کو قلادہ پہنانے کی دو حالتیں ہیں: ٭ آدمی حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور قربانی کا جانور ساتھ لے کر جانے کا پروگرام ہو تو احرام کے وقت انہیں قلادہ پہنائے اور ان کا اشعار کرے۔
٭ صرف قربانی کا جانور بھیجنے کا ارادہ ہو، حج کرنے کا پروگرام نہ ہو، ایسی صورت میں اپنے گھر سے انہیں قلادہ پہنا دے اور اشعار کرے، اس پر کوئی اضافی پابندی عائد نہیں ہو گی۔
(2)
حضرت ابن عباس ؓ کے موقف کی بنیاد محض قیاس تھا جسے حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے عمل سے رد کر دیا۔
لوگوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے موقف سے اتفاق کیا اور حضرت ابن عباس ؓ کے فتوے کو ترک کر دیا۔
علاوہ ازیں حضرت ابن عمر ؓ سے بھی منقول ہے کہ وہ جب اپنی قربانی مکہ مکرمہ بھیجتے تو محرم انسان کی طرح پرہیز کرتے تھے، البتہ تلبیہ نہیں کہتے تھے۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 120/5)
امام بیہقی بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے ام المومنین حضرت عائشہ ؓنے اس مسئلے میں لوگوں کو اندھیرے سے نکالا اور انہیں سنت کی راہ دکھائی۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 234/5، وفتح الباري: 690/3)
«. . . 308- مالك عن عبد الله بن أبى بكر عن عمرة بنت عبد الرحمن أنها أخبرته أن زياد بن أبى سفيان كتب إلى عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أن عبد الله بن عباس قال: من أهدى هديا حرم عليه ما حرم على الحاج حتى ينحر هديه، وقد بعثت بهدي فاكتبي إلى بأمرك أو مري صاحب الهدي، قالت عمرة: فقالت عائشة: ليس كما قال ابن عباس، أنا فتلت قلائد هدي رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي ثم قلدها رسول الله صلى الله عليه وسلم بيديه ثم بعث بها مع أبي، فلم يحرم على رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء أحله الله له حتى نحر الهدي. . . .»
". . . زیاد بن ابی سفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لکھ کر بھیجا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص (بیت اللہ کی طرف) قربانی کے جانور روانہ کرے تو اس پر قربانی کرنے تک وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں اور میں نے قربانی کے جانور روانہ کر دئیے ہیں، لٰہذا آپ اپنا فیصلہ میری طرف لکھ کر بھیجیں یا جو شخص قربانی کے جانور لاتا ہے اسے حکم دے دیں۔ عمرہ (بنت عبد الرحٰمن رحمہا اللہ) نے کہا: تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جس طرح ابن عباس نے کہا ہے اس طرح نہیں ہے۔ میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی گردن میں (قربانی کے نشان کے لئے) پٹے تیار کئے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود ڈالا تھا۔ پھر انہیں میرے والد (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کے ساتھ (بیت اللہ کر طرف) روانہ کیا تو آپ پر قربانی ذبح ہونے تک اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں سے کوئی چیز بھی حرام نہیں ہوئی تھی . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 305]
تفقه:
➊ مجتہد سے غلطی یا بھول ہو سکتی ہے۔
➋ جواب ہمیشہ دلیل سے دینا چاہئے۔
➌ جو شخص قربانی کے جانور حرم بھیج دے اور اپنے گھر میں مقیم رہے تو اس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آدمی پر احرام باندھے اور لبیک کہے بغیر چیزیں حرام نہیں ہوتیں۔ [الموطأ 1/341 ح770 وسنده صحيح]
➍ ایک آدمی نے قربانی کے جانور مقرر کر کے بھیج دیئے اور سلے ہوئے کپڑے اُتار دیئے۔ جب سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا: کعبے کے رب کی قسم! یہ بدعت ہے۔ [الموطأ 1/341 ح771 وسنده صحيح]
➎ اہلِ حق کا فقہی مسائل میں آپس میں اختلاف ہو سکتا ہے جو کہ مذموم نہیں ہے۔
➏ صحابۂ کرام ہر وقت سنت پر عمل کرنے میں مستعد رہتے تھے۔
➐ یہ ممکن ہے کہ بڑے سے بڑے عالم کو بعض حدیثیں معلوم نہ ہوں۔
➑ تقلید جائز نہیں ہے بلکہ استطاعت کے مطابق تحقیق ضروری ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کے اونٹوں اور گایوں کو ہار پہنائے جاتے ہیں یہ بطور علامت ہے کہ یہ اونٹ یا گائے مکہ مکرمہ جا رہی ہے اور حاجیوں نے انھیں حج میں قربانی کرنا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھوں سے ہار تیار کرتی تھیں، اس لیے عورت کے لیے اس قسم کے صنعت و حرفت کے کام کرنا معیوب نہیں۔ نیز ہدی کو روانہ کرنے سے حالت احرام کے مسائل لاگو نہیں ہوتے۔ حالت احرام کے مسائل اس وقت لا گو ہوں گے جب میقات سے احرام پہن لیا جائے۔ (نیز دیکھیں مسند حمیدی ح 211)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہدی کا جانور تیار کر کے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کر دینے سے حج نہ کر نے والے پر حالت احرام کے احکام لازم نہیں آتے۔ اس پر تب ہی حالت احرام کا حکم نافذ ہوگا جب وہ حج کی نیت کر کے احرام باندھے گا۔ نیز دیکھیں صحیح البخاری: 1702۔