حدیث نمبر: 5551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں نحر کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأضاحي / حدیث: 5551
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1711

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5551. سیدنا نافع سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ ذبح خانہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔ (راوئ حدیث) عبید اللہ نے کہا: یعنی نبی ﷺ کے ذبح کرنے کی جگہ میں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5551]
حدیث حاشیہ: مزید وضاحت اگلی حدیث میں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5551 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1711 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1711. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ سے رات کے آخری حصے میں حاجیوں کے ہمراہ جن میں آزاد اور غلام ہوتے، قربانی بھیجتے، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کے نحر کرنے کی جگہ لے جایا جاتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1711]
حدیث حاشیہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانیاں لے جانے کے لیے کچھ آزاد لوگوں کی تخصیص نہ تھی بلکہ غلام بھی لے جاتے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1711 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1711 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1711. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ سے رات کے آخری حصے میں حاجیوں کے ہمراہ جن میں آزاد اور غلام ہوتے، قربانی بھیجتے، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کے نحر کرنے کی جگہ لے جایا جاتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1711]
حدیث حاشیہ:
(1)
منحر وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے قربانی ذبح کی تھی۔
وہ مقام جمرہ عقبہ کے پاس مسجد خیف کے قریب تھا، تاہم منیٰ میں ہر جگہ قربانی کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’میں نے اس جگہ قربانی کی ہے لیکن منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے۔
تمہیں اپنے خیموں میں بھی قربانی کرنے کی اجازت ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2952(1218)
مگر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جذبۂ اتباع سنت سے سرشار تھے، وہ ڈھونڈ کر انہی مقامات پر نماز پڑھتے جہاں رسول اللہ ﷺ نے پڑھی تھی اور اسی مقام پر قربانی کرتے جہاں رسول اللہ ﷺ نے کی تھی۔
(2)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدگاہ میں قربانی ذبح کرتے تھے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ مدینہ طیبہ میں قربانی ذبح کرتے تو عیدگاہ کا انتخاب کرتے۔
(فتح الباري: 697/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1711 سے ماخوذ ہے۔