صحيح البخاري
كتاب الذبائح والصيد— کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں
بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ: باب: مردار جانور کی کھال کا کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ قَالُوا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .´ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا ہی اچھا ہوتا اگر تم اس کی کھال اتارتے اور اسے دباغت کے بعد اس سے فائدہ حاصل کرتے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 806 (363)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار کے چمڑے کو رنگنے کے بعد ہی کارآمد بنایا جا سکتا ہے، البتہ امام زہری کا موقف ہے کہ مردار کے چمڑے سے رنگے بغیر بھی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ ان کا ایک شاذ موقف ہے۔
اس سلسلے میں تمام احادیث اس کا رد کرتی ہیں کیونکہ چمڑا رنگنے ہی سے پاک ہوتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جب چمڑے کو رنگ دیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 812 (366)
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رنگنے سے کوئی بھی چمڑا پاک نہیں ہوتا کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ مردار کے چمڑے اور پٹھوں سے فائدہ حاصل نہ کرو۔
(جامع الترمذي، اللباس، حدیث: 1729)
اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ إهاب اس چمڑے کو کہتے ہیں جو رنگا ہوا نہ ہو اور رنگنے کے بعد اس پر دوسرے الفاظ کا اطلاق ہوتا ہے، اس لیے ممانعت والی احادیث اس چمڑے پر محمول ہوں گی جو ابھی رنگا ہوا نہ ہو۔
کتے اور خنزیر کے چمڑے کے علاوہ ہر مردار کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن میں خنزیر کو رجس کہا گیا ہے اور کتے کو بھی نجاست پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس پر قیاس کیا گیا ہے۔
حدیث میں ہے کہ جو بھی چمڑا رنگا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3609)
مطلق ہے۔
اس کے سب اجزاءکو شام مل ہے، مگر حدیث سے اس کی تخصیص ہوگئی کہ مردار کا صرف کھانا حرام ہے۔
زہری نے اس حدیث سے دلیل لی، اور کہا کہ مردار کی کھال سے مطلقاً نفع اٹھانا درست ہے۔
دباغت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، لیکن دباغت کی قید دوسری حدیث سے نکالی گئی ہے۔
اور جمہور علماءکی وہی دلیل ہے اور امام شافعی ؒ نے مرداروں میں کتے اور سور کا استثناء کیا ہے۔
اس کی کھال دباغت سے بھی پاک نہ ہوگی اور حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے صرف سور اور آدمی کی کھال کو مستثنی کیا ہے۔
(1)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مردارکی کھال سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، لہٰذا اس کی خریدوفروخت کو حرام نہیں فرمایا۔
(2)
بظاہر حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مردار کی کھال سے فائدہ اٹھانا جائز ہے اگرچہ اسے رنگا نہ گیا ہو۔
امام زہری ؒ نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔
امام بخاری ؒ کا بھی یہی موقف معلوم ہوتا ہے لیکن صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ’’تم نے اس کی کھال کو رنگا کیوں نہیں اور پھر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 806(363)
اس سے معلوم ہوا کہ مردار کی کھال کو دباغت دیے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے اور نہ اس کی خریدوفروخت ہی کرنی چاہیے۔
(3)
امام بخاری ؒ کے موقف کی تاویل بایں الفاظ ہوسکتی ہے کہ ناپختہ چمڑے کی خریدوفروخت کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس کی رطوبت ختم ہوجائے، خواہ وہ رنگنے سے ہو یا دھوپ لگنے سے، اس بنا پر رنگنا جواز بیع کے لیے شرط نہیں۔
اصلاحی صاحب نے اس مقام پر ایک سوال اٹھایا ہے کہ رنگنے کا اس حدیث میں کہاں ذکر آیا جس کا تذکرہ امام بخاری ؒ نے عنوان میں کیا ہے؟ (تدبرحدیث: 506/1)
اس کا جواب یہ ہے کہ اهاب اس چمڑے کو کہتے ہیں جسے رنگا نہ گیا ہو کیونکہ دباغت کے بعد اسے قربه کہتے ہیں، اس لیے اصلاحی صاحب کا سوال بے محل ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات ؓ کے غلاموں اور لونڈیوں کو صدقہ دینا جائز ہے، البتہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور لونڈی صدقہ نہیں لے سکتے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو مخزوم کے ایک آدمی کو زکاۃ کی وصولی پر مقرر فرمایا، اس نے حضرت ابو رافع ؓ سے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو، تمہیں بھی اس میں سے کچھ حصہ مل جائے گا، انہوں نے کہا: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت نہ کر لوں، چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا تو آپ نے فرمایا: ’’قوم کا آزاد کردہ غلام بھی انہیں میں شمار ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الزکاة، حدیث: 1650) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلاموں کے لیے بھی فرضی و نفلی دونوں قسم کا صدقہ حرام ہے، البتہ خود ازواج مطہرات ؓ رسول اللہ ﷺ کی آل میں شامل ہیں اور ان کے لیے صدقہ و خیرات حرام ہے، جیسا کہ خلال نے اس روایت کو نقل کیا ہے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم آل محمد ﷺ سے ہیں اور ہمارے لیے صدقہ حرام ہے۔
(فتح الباري: 448/3)
اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ خالد بن سعید نے حضرت عائشہ ؓ کو کچھ صدقہ بھیجا تو انہوں نے فرمایا: ’’ہم آل محمد ﷺ سے تعلق رکھتی ہیں، ہمارے لیے صدقہ جائز نہیں۔
‘‘ (المصنف لابن أبي شیبة: 214/3، وعمدةالقاري: 545/6)
(1)
أَسْقِيَة: سقاء، کی جمع ہے۔
چمڑے کے مشکیزہ کو کہتے ہیں۔
(2)
دَبَاغَت: ہر اس چیز سے جائز ہے جو کھال کی رطوبت کو خشک کرکے، اس کی بدبو کو زائل کردے، اور کھال سڑنے گلنے سے محفوظ ہوجائے۔
فوائد ومسائل: احادیث مذکورہ بالا میں صرف جائز حیوانات کا یا مجوسیو، کے مشکیزوں کا تذکرہ ہے حلال جانور کی کھال کے دباغت سے پاک ہونے میں کوئی اختلاف نہیں حلت و حرمت سے قطع نظر عمومی طور پر آئمہ کے مختلف نظریات ہیں (1)
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سور اور کتے کے سواہر ایک مردہ جانور کی کھال اندر اور باہر سے پاک ہو جاتی ہے اس لیے اس میں خشک اور تر ہر قسم کی چیز رکھی جا سکتی ہے۔
(2)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول یہ ہے دباغت سے کسی مردہ جانور کی کھال پاک نہیں ہوتی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف یہی قول منسوب ہے۔
(3)
امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ، ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ اور اسحٰق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ یہ ہے کہ صرف حلال جانور کی کھال رنگنے سے پاک ہوتی ہے حرام جانور کی کھال پاک نہیں ہوتی۔
(4)
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خنزیر کے سوا ہر مردار جانور کی کھال رنگنے سے پاک ہو جاتی ہے۔
(5)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا قول یہ ہے رنگنے سے سب کھالیں پاک ہو جاتی ہیں، مگر صرف باہر سے، اندر سے نہیں اس لیے ان میں کوئی تر چیز نہیں ڈالی جا سکتی۔
(6)
ہر جانور کی کھال اندر اور باہر سے رنگنے سے پاک ہو جاتی ہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور داؤد ظاہری کا یہی موقف ہے۔
(7)
بلا رنگے ہوئے ہی مرد ہ جانور کی کھال سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے امام زہری رحمۃ اللہ علیہ اور بعض شافعیوں کا یہی نظریہ ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس چمڑے کو دباغت دی گئی، وہ پاک ہو گیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1728]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ ہر چمڑا جسے دباغت دیاگیا ہو وہ پاک ہے، لیکن اس عموم سے درندوں کی کھالیں نکل جائیں گی، کیوں کہ اس سلسلہ میں فرمان رسول ہے (أن رسول الله ﷺ نهى عن جلود السباع) یعنی آپ ﷺ نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے، اس حدیث کی بنیاد پر درندوں کی کھالیں ہر صورت میں ناپاک ہی رہیں گی، اور ان کا استعمال ناجائز ہوگا۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بکری مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری والے سے کہا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1727]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے، اور ان روایتوں کوجن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیاجائے گا۔
عبدالرحمٰن بن وعلہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ہم لوگ مغرب کے علاقہ میں جہاد کو جا رہے ہیں، وہاں کے لوگ بت پرست ہیں، ان کے پاس مشکیں ہیں جن میں دودھ اور پانی ہوتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دباغت کی ہوئی کھالیں پاک ہوتی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ نے کہا: یہ آپ کا خیال ہے یا کوئی بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا: بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سنی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4247]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا: " اس بکری والوں پر کوئی حرج نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال (دباغت دے کر) سے فائدہ اٹھا لیتے۔" [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4266]
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک پڑی ہوئی مردار بکری کے پاس سے ہوا، آپ نے فرمایا: " یہ کس کی ہے؟ " لوگوں نے کہا: میمونہ کی۔ آپ نے فرمایا: " ان پر کوئی گناہ نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال سے فائدہ اٹھاتیں "، لوگوں نے عرض کیا: وہ مردار ہے۔ تو آپ نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے (صرف) اس کا کھانا حرام کیا ہے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4239]
2۔حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی امام یا ذمہ دار شخص کی بات کا مفہوم سمجھ میں نہ آئے تو اس سے پوچھا جاسکتا ہے، یہ اس کے احترام کے منافی نہیں جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اﷲ ﷺ سے پوچھ لیا تھا کہ مردار جانور کے چمڑے سے کس طرح نفع اٹھایا جاسکتا ہے؟
3۔قابل احترام اور ذی وقار شخصیت کو بھی سوال، بحث و تحقیق کے وقت برہم نہیں ہونا چاہیے اور نہ وہ اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے جیسا کہ رسول اﷲ ﷺ کا بہترین اسوہ ہے کہ آپ نے لوگوں کیک پوچھنے لپر بلاتا مل بتا دیا۔
4۔اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کتاب اﷲ عموم کی تخصیص حدیث شریف سے ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید میں مطلق طور پر فرمایا گیا ہے: مردار کی حرمت کا حکم اس کے ہر ہر جز کو شامل ہے اور ہر حال میں شامل ہے۔ حدیث اور سنت نے اس عام حکم میں یہ تخصیص کردی ہے کہ مردار جانور چمڑا رنگ لیا جائے تو اس کا استعمال حلال ہوجاتا ہے۔
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: إذا دبغ الإهاب فقد طهر . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "جب کچے چمڑے کو (مسالہ لگا کر) رنگ دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے . . ." [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 16]
لغوی تشریح:
«دُبِغَ» «دِبَاغ» سے ماخوذ ہے۔ «دُبِغَ» صیغۂ مجہول ہے۔ اس کا مطلب ہے: چمڑے کی رطوبت اور دیگر فضلات (گندگیوں) کو خشک کرنا اور جو چیز اس کی بدبو اور خرابی کی موجب ہو اسے زائل کرنا۔
«اَلْإِهَابُ» بروزن «اَلْكِتَابُ» ۔ مطلق چمڑے کے لیے استعمال ہوتا ہے یا پھر اس چمڑے کو بھی کہتے ہیں جسے ابھی تک رنگا نہ گیا ہو۔
«أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ» باقی ماندہ الفاظ حدیث یہ ہیں: «فَقَدْ طَهُرَ» اور «أَيُّمَا» عمومیت کا مفہوم ادا کرتا ہے، اس لیے اس میں تمام چمڑے شامل ہیں۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث ہر قسم اور ہر نوع کے حیوانات کے چمڑوں کو شامل ہے، البتہ خنزیر، یعنی سور کا چمڑا بالاتفاق اس سے مستثنیٰ ہے اور اکثریت کے نزدیک کتے کا چمڑا بھی مستثنیٰ ہے اور محققین علماء کے نزدیک ان تمام جانوروں کا چمڑا بھی مستثنیٰ ہے جو غیر مأکول اللحم ہیں، یعنی جن کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔
➋ حدیث مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ دباغت (رنگائی) کے بعد ہر قسم کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے، وہ چمڑا خواہ حلال جانور کا ہو یا حرام کا، جانور خواہ شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو یا خود اپنی طبعی موت مرا ہو۔ اس اصول عمومی کے باوجود بعض جانور ایسے ہیں جن کے چمڑے کو دباغت کے باوجود پاک قرار نہیں دیا گیا، مثلاً: خنزیر کا چمڑا، اسے نجس عین ہونے کی بنا پر پاک قرار نہیں دیا گیا اور انسان کا چمڑا، اسے بھی بوجہ اس کی کرامت و بزرگی اور شرف کے حرام ٹھہرایا گیا ہے تاکہ بےقدری سے اسے محفوظ رکھا جائے۔
➌ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ خنزیر اور کتے پر اگر تکبیر پڑھ کر انہیں ذبح کیا جائے تو اس صورت میں وہ بھی پاک ہو جاتا ہے جبکہ یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح احناف کا کتے کے چمڑے کو دباغت کے بعد پاک قرار دینا بھی صائب و صحیح رائے پر مبنی نہیں ہے۔
➍ یہ ذہن نشین رہے کہ جن جانوروں کے چمڑے دباغت کے بعد پاک ہو جاتے ہیں ان کے سینگ، بال، دانت اور ہڈیاں وغیرہ کام میں لائی جا سکتی ہیں، نیز ان کی تجارت بھی کی جا سکتی ہے۔
«. . . عن عبد الله بن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا دبغ الإهاب فقد طهر . . .»
". . . سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب چمڑے کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 33]
تفقه:
➊ حلال جانوروں کی جلد کو اہاب کہتے ہیں۔ مشہور نحوی امام ابوالحسن النضر بن شمیل المازنی البصری رحمہ اللہ (متوفی 203ھ) نے فرمایا: اونٹ، گائے اور بکریوں کی کھال کو اہاب اور درندوں کی کھال کوجلد کہاجاتا ہے۔ مسائل الامام احمد اسحاق بن راہوی اولیه اسحاق بن منصور الکوسج 215/1 فقرہ: 477 وسندہ صحیح)
● تقریباً یہی بات اختصار کے ساتھ امام اسحاق بن راہویہ نے کہی ہے۔ (ایضاً: 477) نیز ملاحظ فرمائیں لسان العرب (مادة: أهب)
◄ معلوم ہوا کہ حلال جانوروں کی کھالیں دباغت سے پاک ہو جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے درندے مثلاً کتے وغیرہ مراد نہیں ہیں۔ درندوں کی کھالوں کی ممانعت کے لئے دیکھئے الموطأ ح:52
➋ مزيد فقہی فوائد کے لئے دیکھئے الموطأ حدیث:52
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ماکول اللحم (حلال) جانور اگر مر جائے تو اس کے چمڑے سے فائدہ اٹھانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کو رنگا جائے۔ یاد رہے کہ غیر ماکول اللحم (حرام) جانوروں کا چمڑا رنگنے سے بھی پاک نہیں ہوتا تفصیلی بحث کے لیے دیکھیں، راقم کی قیمتی کتاب"جانوروں کے احکام"۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے، یاد رہے کہ ماکول اللحم جانور (جس کا گوشت کھایا جائے) جب مرتا ہے تو اس کا چمڑا ناپاک ہو جاتا ہے، جب اس کو رنگ دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے لیکن غیر ماکول اللحم جانوروں کا چمڑارنگنے سے پاک نہیں ہوتا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ماکول اللحم جانور اگر مر جائے تو اس کی کھال نا پاک ہو جاتی ہے، اور اگر جانور کی کھال اتار کر اسے کیکر کی چھال سے رنگ لیا جائے، تو اس سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔ یاد رہے کہ غیر ماکول اللھم جانور کی کھال ہر حالت میں نا پاک ہے، وہ رنگنے سے بھی پاک نہیں ہوتی۔