صحيح البخاري
كتاب الذبائح والصيد— کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں
بَابُ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ: باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5522
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " . تَابَعَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ .مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی ۔ اس روایت کی متابعت ابن مبارک نے کی تھی ، ان سے نافع نے اور ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے سالم نے اسی طرح سے بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5522. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا اس روایت کی عبداللہ بن مبارک نے متابعت کی ہے وہ عبید اللہ سے اور وہ سیدنا نافع سے بیان کرتے ہیں ابو اسامہ نے عبید اللہ سے اور انہوں نے سیدنا سالم سے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5522]
حدیث حاشیہ: حضرت مسدد بن مسرہد بصرہ کے باشندے ہیں۔
حضرت امام بخاری اور ابوداؤد وغیرہ کے استاذ ہیں۔
سنہ 228ھ میں انتقال فرمایا، رحمه اللہ تعالیٰ۔
حضرت امام بخاری اور ابوداؤد وغیرہ کے استاذ ہیں۔
سنہ 228ھ میں انتقال فرمایا، رحمه اللہ تعالیٰ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5522 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5522. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا اس روایت کی عبداللہ بن مبارک نے متابعت کی ہے وہ عبید اللہ سے اور وہ سیدنا نافع سے بیان کرتے ہیں ابو اسامہ نے عبید اللہ سے اور انہوں نے سیدنا سالم سے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5522]
حدیث حاشیہ:
ان روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے موقع پر گھریلو گدھوں کو حرام قرار دیا ہے بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے باقاعدہ اس کا اعلان کیا جیسا کہ حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی جنگ لڑی۔
لوگوں کو سخت بھوک نے ستایا تو انہوں نے گھریلو گدھوں کو ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کریں: خبردار! گھریلو گدھوں کا گوشت حلال نہیں ہے۔
(سنن النسائي، الصید و الذبائح، حدیث: 4346)
ان روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے موقع پر گھریلو گدھوں کو حرام قرار دیا ہے بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے باقاعدہ اس کا اعلان کیا جیسا کہ حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی جنگ لڑی۔
لوگوں کو سخت بھوک نے ستایا تو انہوں نے گھریلو گدھوں کو ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کریں: خبردار! گھریلو گدھوں کا گوشت حلال نہیں ہے۔
(سنن النسائي، الصید و الذبائح، حدیث: 4346)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5522 سے ماخوذ ہے۔