صحيح البخاري
كتاب الذبائح والصيد— کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ: باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5516
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ " .مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی ، کہا کہ` میں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہزنی کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
5516. سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں: آپ نے رہزنی کرنے (ڈاکا مارنے) اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5516]
حدیث حاشیہ: یہ جملہ احادیث اسلام کی رحم و کرم کی پاکیزہ ہدایات پر بین دلیل ہیں جن کے خلاف عمل کرنے والے اسلام کے نزدیک ملعون ہیں جو معاندین اسلامی رحم وکرم کے منکر ہیں ان کو ایسی پاکیزہ تعلیمات پر غور و فکر کرنا چاہیئے۔
صاف ہدایت ہے ''ارحَمُوا مَن في الأرضِ یرحَمکُم مَن في السماءِ“ لوگو! تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا سچ ہے: کرو مہربانی تم اہل زمین پر خدا مہر باں ہوگا عرش بریں پر
صاف ہدایت ہے ''ارحَمُوا مَن في الأرضِ یرحَمکُم مَن في السماءِ“ لوگو! تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا سچ ہے: کرو مہربانی تم اہل زمین پر خدا مہر باں ہوگا عرش بریں پر
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5516 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5516. سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں: آپ نے رہزنی کرنے (ڈاکا مارنے) اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5516]
حدیث حاشیہ:
ان تمام احادیث میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی ہدایت ہے۔
ان کے خلاف عمل کرنے والے اسلام اور اہل اسلام کے ہاں ملعون ہیں۔
جو مخالفینِ اسلام کہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے انہیں اپنے آپ پر غور و فکر کرنا ہو گا، اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ کسی حیوان کو بلا وجہ تنگ کیا جائے چہ جائیکہ اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بلا وجہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے۔
واللہ المستعان
ان تمام احادیث میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی ہدایت ہے۔
ان کے خلاف عمل کرنے والے اسلام اور اہل اسلام کے ہاں ملعون ہیں۔
جو مخالفینِ اسلام کہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے انہیں اپنے آپ پر غور و فکر کرنا ہو گا، اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ کسی حیوان کو بلا وجہ تنگ کیا جائے چہ جائیکہ اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بلا وجہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے۔
واللہ المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5516 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2474 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2474. حضرت عبد اللہ بن یز یدانصاری ؓ سے روایت ہے۔ اور وہ ان (عدی بن ثابت)کے نانا تھے۔ انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2474]
حدیث حاشیہ: لوٹ مار کرنا، ڈاکہ ڈالنا، چوری کرنا اسلام میں سختی کے ساتھ ان کی مذمت کی گئی ہے اور اس کے لیے سخت ترین سزا تجویز کی گئی کہ چوری کرنے والے کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالے جائیں، ڈاکوؤں، رہزنوں کے لیے اور بھی سنگین سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
تاکہ نوع انسانی امن و امان کی زندگی بسر کرسکے۔
انہی قوانین کی برکت ہے کہ آج بھی حکومت سعودیہ عربیہ کا امن ساری دنیا کی حکومت کے لیے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے جب کہ جملہ مہذب لوگوں میں ڈاکہ زنی مختلف صورتوں میں دن بدن ترقی پذیر ہے۔
چوری کرنا بطور ایک پیشہ کے رائج ہو رہا ہے۔
عوام کی زندگی حد درجہ خوفناکی میں گزر رہی ہے۔
فوج پولس سب ایسے مجرموں کے آگے لاچارہیں۔
اس لیے کہ ان کے ہاں قانونی لچک حد درجہ ان کی ہمت افزائی کرتی ہے۔
مثلہ جنگ میں مقتول کے ہاتھ، پیر، کان کاٹ کر الگ الگ کردینا۔
اسلام نے اس حرکت سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔
تاکہ نوع انسانی امن و امان کی زندگی بسر کرسکے۔
انہی قوانین کی برکت ہے کہ آج بھی حکومت سعودیہ عربیہ کا امن ساری دنیا کی حکومت کے لیے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے جب کہ جملہ مہذب لوگوں میں ڈاکہ زنی مختلف صورتوں میں دن بدن ترقی پذیر ہے۔
چوری کرنا بطور ایک پیشہ کے رائج ہو رہا ہے۔
عوام کی زندگی حد درجہ خوفناکی میں گزر رہی ہے۔
فوج پولس سب ایسے مجرموں کے آگے لاچارہیں۔
اس لیے کہ ان کے ہاں قانونی لچک حد درجہ ان کی ہمت افزائی کرتی ہے۔
مثلہ جنگ میں مقتول کے ہاتھ، پیر، کان کاٹ کر الگ الگ کردینا۔
اسلام نے اس حرکت سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2474 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2474 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2474. حضرت عبد اللہ بن یز یدانصاری ؓ سے روایت ہے۔ اور وہ ان (عدی بن ثابت)کے نانا تھے۔ انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2474]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان سے بعض حضرات نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ نکاح کے موقع پر چھوہاروں کی لوٹ کھسوٹ جائز ہے، حالانکہ ایسا کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے اور دینِ اسلام میں وقار کا بھی ایک مقام ہے۔
اس کے جواز میں ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لشکروں کو لوٹ مار سے منع کیا اور شادی بیاہ کے موقع پر اس کی اجازت دی ہے، اس کی سند کے متعلق امام بیہقی ؒ نے کہا ہے کہ اس کی سند میں عون اور عصمہ دو راوی ناقابل اعتبار ہیں۔
(عمدة القاري: 237/9)
اس بنا پر یہ حدیث ناقابل استدلال ہے۔
شادی بیاہ کے موقع پر اگر چھوہارے، بادام اور ٹافیاں وغیرہ کھلانی ہوں تو باعزت طریقے سے تقسیم کرنی چاہئیں، لیکن اسے سنت کا درجہ دینا محل نظر ہے۔
(2)
جنگ یا لڑائی کے موقع پر مقتول کی شکل و صورت بگاڑنے کا نام مثلہ ہے، اس طرح کہ اس کے کان، ناک وغیرہ کاٹ دیے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ نے کافر دشمن سے بھی سلوک ایسا کرنے سے منع فرمایا، البتہ قصاصاً مثلے کا جواز ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان سے بعض حضرات نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ نکاح کے موقع پر چھوہاروں کی لوٹ کھسوٹ جائز ہے، حالانکہ ایسا کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے اور دینِ اسلام میں وقار کا بھی ایک مقام ہے۔
اس کے جواز میں ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لشکروں کو لوٹ مار سے منع کیا اور شادی بیاہ کے موقع پر اس کی اجازت دی ہے، اس کی سند کے متعلق امام بیہقی ؒ نے کہا ہے کہ اس کی سند میں عون اور عصمہ دو راوی ناقابل اعتبار ہیں۔
(عمدة القاري: 237/9)
اس بنا پر یہ حدیث ناقابل استدلال ہے۔
شادی بیاہ کے موقع پر اگر چھوہارے، بادام اور ٹافیاں وغیرہ کھلانی ہوں تو باعزت طریقے سے تقسیم کرنی چاہئیں، لیکن اسے سنت کا درجہ دینا محل نظر ہے۔
(2)
جنگ یا لڑائی کے موقع پر مقتول کی شکل و صورت بگاڑنے کا نام مثلہ ہے، اس طرح کہ اس کے کان، ناک وغیرہ کاٹ دیے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ نے کافر دشمن سے بھی سلوک ایسا کرنے سے منع فرمایا، البتہ قصاصاً مثلے کا جواز ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2474 سے ماخوذ ہے۔