صحيح البخاري
كتاب الذبائح والصيد— کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُثْلَةِ وَالْمَصْبُورَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ: باب: زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا " . تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ .´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ، ان سے ابوبشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا وہ چند جوانوں یا ( یہ کہا کہ ) چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یہ کون کر رہا تھا ؟ ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ۔ اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے ۔
حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ " . وَقَالَ عَدِيٌّ : عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے منہال نے بیان کیا ، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت بھیجی ہے جو کسی زندہ جانور کے پاؤں یا دوسرے ٹکڑے کاٹ ڈالے ۔ اور عدی نے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسلام نرمی کرنے کا حکم دیتا ہے۔
شرعی طور پر مرغی یا کسی دوسرے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنا ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لعنت بھیجیں، اس کے لیے دنیا و آخرت میں تباہی اور ہلاکت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
واللہ المستعان