حدیث نمبر: 5515
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا " . تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ، ان سے ابوبشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا وہ چند جوانوں یا ( یہ کہا کہ ) چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یہ کون کر رہا تھا ؟ ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ۔ اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5515
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5515. سیدنا سعید بن جبیر ؓ سےروایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کے ہمراہ تھا۔ وہ چند ایک نوجوانوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے سیدنا ابن عمر ؓ کو آتے دیھا تو بھاگ نکلے۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: یہ کام کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والے پر نبی ﷺ نے لعنت بھیجی ہے اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے، مہنال نے سعید سے انہوں نے ابن عمر ؓ سے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو حیوانوں کا مثلہ کرے عدی نے سعید سے انہوں نے ابن عباس ؓ سے اور وہ اسے نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5515]
حدیث حاشیہ: مرغی یا اور ایسے ہی زندہ جانوروں کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی کرنا ایسا جرم ہے جن کا ارتکاب کرنے والوں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5515 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5515. سیدنا سعید بن جبیر ؓ سےروایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کے ہمراہ تھا۔ وہ چند ایک نوجوانوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے سیدنا ابن عمر ؓ کو آتے دیھا تو بھاگ نکلے۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: یہ کام کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والے پر نبی ﷺ نے لعنت بھیجی ہے اس کی متابعت سلیمان نے شعبہ سے کی ہے، مہنال نے سعید سے انہوں نے ابن عمر ؓ سے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو حیوانوں کا مثلہ کرے عدی نے سعید سے انہوں نے ابن عباس ؓ سے اور وہ اسے نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5515]
حدیث حاشیہ:
اسلام نرمی کرنے کا حکم دیتا ہے۔
شرعی طور پر مرغی یا کسی دوسرے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنا ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لعنت بھیجیں، اس کے لیے دنیا و آخرت میں تباہی اور ہلاکت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
واللہ المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5515 سے ماخوذ ہے۔