حدیث نمبر: 5493
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ ، وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ يُرَ مِثْلُهُ ، يُقَالُ لَهُ : الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم غزوہ خبط میں شریک تھے ، ہمارے امیر الجیش ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ ہم سب بھوک سے بیتاب تھے کہ سمندر نے ایک مردہ مچھلی باہر پھینکی ۔ ایسی مچھلی دیکھی نہیں گئی تھی ۔ اسے عنبر کہتے تھے ، ہم نے وہ مچھلی پندرہ دن تک کھائی ۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر ( کھڑی کر دی ) تو وہ اتنی اونچی تھی کہ ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5493
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5493. سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم غزوہ خبط میں شریک تھے جبکہ اس وقت ہمارے سپہ سالار سیدنا عبیدہ بن جراح ؓ تھے۔ ہم سب بھوک سے بے حال تھے کہ سمندر نے ایک مردہ مچھلی باہر پھینک دی۔ ایسی مچھلی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا ہم نے مچھلی پندرہ دن تک کھائی۔ پھر سیدنا ابو عبیدہ ؓ نے اس کی ہڈی لے کر کھڑی کر دی تو وہ اتنی اونچی تھی کہ ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5493]
حدیث حاشیہ: یہ غزوہ سنہ 8ھ میں کیا گیا تھا۔
جس میں بھوک کی وجہ سے لوگوں نے پتے کھائے۔
اسی لیے اسے جیش الخبط کہا گیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5493 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5493. سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم غزوہ خبط میں شریک تھے جبکہ اس وقت ہمارے سپہ سالار سیدنا عبیدہ بن جراح ؓ تھے۔ ہم سب بھوک سے بے حال تھے کہ سمندر نے ایک مردہ مچھلی باہر پھینک دی۔ ایسی مچھلی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا ہم نے مچھلی پندرہ دن تک کھائی۔ پھر سیدنا ابو عبیدہ ؓ نے اس کی ہڈی لے کر کھڑی کر دی تو وہ اتنی اونچی تھی کہ ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5493]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ غزوہ 8 ہجری میں ہوا۔
خبط ایک درخت کے پتے ہیں جسے اونٹ کھاتے ہیں۔
اس جنگ میں بھوک کی وجہ سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو درختوں کے پتے کھانے پڑے، اس لیے اس جنگ کا نام "جیش الخبط" مشہور ہوا۔
اس وقت فاقے کا عالم تھا کہ فی کس ایک کھجور روزانہ ملتی تھی۔
ایسے حالات میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سمندر کی طرف گئے تو وہاں پہاڑ کی مانند ایک بہت بڑی مچھلی دیکھی۔
وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اونٹ ان کے نیچے سے نکل گیا اور پسلیوں کی بلندی تک نہ پہنچ سکا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے مچھلی کو اضطراری حالت میں نہیں کھایا بلکہ یہ ان کے لیے حلال اور مباح تھی جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا: ’’یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے رزق تھا۔
اگر اس میں سے کوئی باقی بچا ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔
‘‘ چنانچہ انہوں نے کچھ باقی ماندہ ٹکڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ نے تناول فرمایا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4362)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5493 سے ماخوذ ہے۔